تازہ ترین

سندھ کابینہ نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی قتل کیس کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے مرحوم میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے مرحوم میر رضا علی خان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے، میر رضا کیس سے متعلق اہلِ خانہ کے خدشات کو سندھ حکومت نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے، اہلِ خانہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردہ خط حکومت کو موصول ہوا۔جوڈیشل کمیشن میر رضا قتل کیس کی غیرجانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا، جوڈیشل کمیشن تحقیقات میں کسی بھی خامی، اہم پہلو یا مزید تفتیش طلب شواہد کا جائزہ لے گا، کمیشن پولیس، میڈیکو لیگل افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے کردار کا بھی جائزہ لے گا، غفلت، فرائض سے کوتاہی، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا شواہد میں ردوبدل ثابت ہونے پر کارروائی کی سفارش کی جا سکے گی۔  جوڈیشل کمیشن کو مزید تحقیقات اور فرانزک تجزیے کی سفارش کا اختیار حاصل ہوگا، جوڈیشل کمیشن کو سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت سول کورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے، کمیشن گواہوں کو طلب، حلف پر بیانات قلمبند اور دستاویزات اور  ریکارڈ طلب کر سکے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سرکاری محکموں، اداروں اور افسران کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کردی ہے جب کہ  محکمہ داخلہ جوڈیشل کمیشن کو ضروری سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔

 جوڈیشل کمیشن قیام کے 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات سندھ حکومت کو پیش کرے گا، ضرورت پڑنے پر مکمل اور منصفانہ تحقیقات کے لیے کمیشن کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی، کمیشن تحقیقات کے طریقۂ کار اور متعلقہ حکام کے کردار کا مکمل جائزہ لے گا ، جوڈیشل کمیشن کو قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی سفارش کرنے کا مکمل اختیار ہوگا۔سندھ حکومت مرحوم میر رضا علی خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے، شفاف جوڈیشل انکوائری سے اہلِ خانہ کے جائز خدشات کا ازالہ اور قانون کی حکمرانی پر اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔

 اس سے قبل 9 اگست کو بھی سندھ حکومت نے میر رضا علی کی پُراسرار موت کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا اور وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کے والدین کو مکمل تعاون اور ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔بعد ازاں میر رضا علی کے والد میر حسین نے بیٹے کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کردی کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ حکومت جوڈیشل انکوائری کے نام پر معاملے کو متنازع بنانا چاہتی ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement