نومبر میں فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے ملک گیر جدوجہد کا آغاز ہوگا، حافظ نعیم الرحمان
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ نومبر میں فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے ملگ گیر جدوجہد کا آغاز ہوگا۔ نوجوانوں کو ملک کے محفوظ مستقبل کی عظیم جدوجہد میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ حکمران امداد مانگنے اور معدنیات بیچنے کی بجائے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گجرات میں ’’بنوقابل‘‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام’’ بنوقابل‘‘ کے تحت مفت آئی ٹی کورسز میں داخلہ کے لیے ہزاروں طلباء وطالبات نے امتحان دیا۔ امیرجماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر گجرات انصر محمود دھول ایڈووکیٹ اور سیکرٹری جنرل الخدمت فاؤنڈیشن وقاص انجم جعفری نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم، اشرافیہ اور ان کی اولادیں ملکی وسائل پر عیاشیوں میں مصروف ہے،عوام کی رتی برابر پرواہ نہیں ، نوجوانوں کو ملک سے مایوس کیا جارہا ہے، ان پر تعلیم و روزگار کے دروازے بند ہیں ، 3 کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، ابتدائی تعلیم کے بعد صرف 12 فیصد اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان حالات میں نوجوانوں کو آزمودہ جماعتوں اور نام نہاد لیڈران کے پیچھے جانے کی بجائے سمجھ لینا چاہیے کہ یہی طبقات ان کے دشمن ہیں، پاکستان کے نوجوانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، انہیں تعلیم بھی حاصل کرنی ہے اور فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز بھی کرناہے۔ جماعت اسلامی کا 21،22 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان کے سائے تلے ہونے والا اجتماع عام نظام کی تبدیلی کی تحریک کا آغاز ہوگا، نوجوانوں کو شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سیلاب کے دوران حکمران طبقہ نے سوائے فوٹو شوٹ کروانے کے اور کچھ نہیں کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے والد اور چچا کے ہمراہ تصاویر کو پورے پنجاب میں پھیلایا، متاثرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا، کسان رُل گئے ، لوگوں کے گھر تباہ ہوئے، ان حالات میں صرف جماعت اسلامی اور الخدمت میدان عمل میں اور متاثرین کے ساتھ تھیں۔ ہم تعلیم کے میدان میں بھی لاکھوں بچوں اور بچیوں کو پڑھا رہے ہیں۔’’ بنوقابل ‘‘کے ذریعے نوجوانوں کو آئی ٹی کورسز کروا کے انہیں روزگار کے قابل بنائیں گے ، تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے اور عوام کا حق ہے ، جماعت اسلامی عوام کے حق کے لیے آواز بھی بلند کررہی ہے۔ نوجوان حالات سے مایوس نہ ہوں بلکہ مایوس کرنے والوں کو مایوس کریں اور پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جماعت اسلامی سے مل کر جدوجہد کا آغاز کریں۔

Leave A Comment