پاکستان کی معاشی زبو حالی، منشی گری سے حقیقی معیشت دانی کا سفر
محترم قارئین ۔ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں معاشی استحکام ایک ایسا خواب بن کر رہ گیا ہے جس کی تعبیر آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔ اس بدقسمتی کی سب سے بڑی وجہ ملکی معیشت کی باگ ڈور ان پولیٹیکل اکانومسٹس یا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ماہرین کے بجائے ہمیشہ ایسے افراد کے سپرد کرنا رہی ہے جن کا عوامی سیاست یا معاشی باریکیوں سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ ملکی تاریخ کا یہ ایک تلخ سچ ہے کہ اسد عمر شاید واحد ایسے وزیر خزانہ رہے جو اپنے بل بوتے پر باقاعدہ انتخابات جیت کر اسمبلی میں پہنچے ورنہ ان کے علاوہ جتنے بھی وزرائے خزانہ آئے ان کی سیاسی جڑیں سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔ شوکت عزیز سے لے کر عبدالحفیظ پاشا تک اور دیگر تمام نام نہاد معاشی مصلحین دراصل وہ پیرا شوٹرز اور ٹیکنوکریٹس تھے جنہیں مخصوص مقاصد کے لیے معیشت کی کرسی پر لا بٹھایا گیا۔ سیاسی بیس یا عوامی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے ان وزراء کے فیصلے کبھی بھی عوامی امنگوں کے مطابق نہیں رہے بلکہ یہ ہمیشہ مخصوص حلقوں اور بیرونی اداروں کے مفادات کے تحفظ کا باعث بنتے رہے۔ہمارے ہاں ایک عام مغالطہ پایا جاتا ہے کہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور بینکرز بہت پڑھے لکھے ماہرینِ معیشت ہوتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنیادی طور پر صرف ایک منشی کا کردار ادا کرتا ہے جس کا کام حساب کتاب رکھنا، آڈٹ کرنا اور پلس مائنس دیکھنا ہوتا ہے جب کہ ایک بینکر کا کام محض بینک میں ڈپازٹ یعنی امانتیں لانا اور قرضے جاری کرنا ہوتا ہے۔ ان دونوں پیشوں کا معاشی اصولوں، پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے اور ملکی ترقی کی طویل مدتی منصوبہ بندی سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ معیشت دانی ایک الگ سائنس ہے جس کے لیے کتابی علم، تدریس اور گہرے فہم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پاکستان میں چند مہینوں کے لیے حفیظ پاشا کے استثنیٰ کے علاوہ 75 سالوں میں کوئی بھی ایسا وزیر خزانہ نہیں آیا جس نے زندگی میں کبھی معیشت کی آدھے گھنٹے کی کلاس بھی لی ہو۔ تعلیم اور تدریس سے عاری ان منشیوں نے ملکی معیشت کو ایک ایسی دکان کی طرح چلایا جہاں صرف روزمرہ کے لین دین اور حساب کتاب کو ہی کامیابی سمجھ لیا گیا۔پاکستان کو اس وقت اپنے روایتی بینکرز اور منشیوں کے چکر ویو سے نکل کر ایک حقیقی ماہرِ معیشت کی ضرورت ہے جس کی بہترین مثال بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ہیں۔ منموہن سنگھ جیسے معیشت دان راتوں رات پیدا نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک طویل علمی اور عملی سفر طے کر کے آتے ہیں۔ وہ سات سال تک ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انہوں نے مسلسل سات برس تک دہلی اسکول آف اکانومکس میں معیشت پڑھائی۔ وہ بھارت کی جدید معیشت کے حقیقی معمار کہلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے معاشی اصلاحات کو منشی گری کے بجائے علم اور تدریس کی بنیاد پر استوار کیا۔ اسی طرح بھارت کی موجودہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا بیک گراؤنڈ بھی معاشی نظریات پر مبنی ہے۔ جب تک پاکستان اپنے اہم ترین معاشی عہدوں پر ایسے اساتذہ اور محققین کو نہیں لائے گا جو لانگ ٹرم یعنی طویل مدتی پالیسیاں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں تب تک ملک قرضوں کے دلدل سے باہر نہیں نکل سکتا۔بدقسمتی سے پاکستان میں وزرائے خزانہ یا پلاننگ کمیشن کے سربراہان کا انتخاب قابلیت کے بجائے صرف اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف (IMF) سے کتنی اچھی انگریزی میں نیگوشیٹ یا مذاکرات کر سکتے ہیں۔ شوکت ترین ہوں، شوکت عزیز ہوں یا دیگر بینکرز، ان کا بنیادی دھندا ہی یہ رہا ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرضے لائے جائیں اور معیشت کا وقتی پہیہ چلایا جائے۔ آئی ایم ایف خود ایک بینکر ہے اور پاکستان بھی اپنی طرف سے ایک بینکر کو سامنے کھڑا کر دیتا ہے تاکہ دونوں بینکرز آپس میں بیٹھ کر گفتگو کا اچھا ماحول بنا سکیں اور قرض کی قسط جاری ہو سکے۔ یہاں تک کہ ملک کے ایک وزیراعظم بھی براہِ راست آئی ایم ایف سے اٹھا کر لائے گئے تھے۔ معیشت کو قرضوں کے سہارے چلانے کا یہ منشیانہ انداز فکر ہی ہماری بربادی کا اصل ذمہ دار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خدا کے واسطے پاکستان ان منشیوں کے چنگل سے باہر نکلے اور منموہن سنگھ جیسے کسی پڑھے لکھے، وژنری اکانومسٹ کو آگے لائے جو آئی ایم ایف کی غلامی کے بجائے ملکی پیداوار بڑھانے کا پائیدار راستہ دکھا سکے۔









Leave A Comment