ملزمہ انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کےحوالے کردیا گیا۔ پولیس نے مقامی عدالت میں  ملزمہ کو پیش کرتے ہوئے قتل کیس میں مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کا نیٹ ورک نہ صرف کراچی بلکہ پنجاب اور لاہور تک پھیلا ہوا ہے جبکہ اس کے روابط نائجیرین جرائم پیشہ افراد سے بھی ہیں۔ دوران سماعت عدالت نے قتل کیس کے حوالے سے تفتیش پر سوال اٹھایا اور مقتول کی شناخت سے متعلق دریافت کیا۔جس پر  تفتیشی افسر نے بتایا کہ لاش کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم مقتول کے قبضے سے ملزمہ کے مبینہ برانڈ کی منشیات کی ڈبی ملی تھی جس سے تفتیش کا رخ ملزمہ کی جانب گیا۔

 

 

ملزمہ کے وکیل کے مطابق قتل کا مقدمہ اپریل میں درج ہوا جبکہ اس وقت ملزمہ لاہور میں موجود تھی۔ پولیس جس منشیات کی ڈبی کا حوالہ دے رہی ہے، ویسی ڈبیاں تیار کرنا مشکل نہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں انمول عرف پنکی کا جسمانی ریمانڈ 22 مئی تک منظور کرتے ہوئے اسے ایس آئی یو پولیس کے حوالے کر دیا۔

Leave A Comment

Advertisement