موبائل سروسز پر بھاری ٹیکسز ڈیجیٹل ترقی میں رکاوٹ قرار
پاکستان میں موبائل سروسز پر عائد بھاری ٹیکسوں نے ملک کو ایک ایسے "ٹیکس ٹریپ" میں جکڑدیا ہے جو نہ صرف انٹرنیٹ اور موبائل رابطوں کی لاگت بڑھا رہا ہے، بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی اور موبائل صارفین کی تعداد میں اضافے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہاہے۔یہ بات ٹیلی کام گروپ ویون (VEON) کی سفارش پر تیارکی گئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ فرنٹیئر اکنامکس کی تیارکردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ٹیلی کام شعبہ دنیاکے سب سے زیادہ ٹیکس عائد کیے جانیوالے شعبوں میں شامل ہے۔ موبائل سروسز پر 19.5 فیصد سیلز ٹیکس، 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت مجموعی طور پر 37 فیصد ٹیکس عائد ہے،اسی طرح ٹیلی کام کمپنیوں پر 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس اور منافع پر 10 فیصد سپرٹیکس بھی لاگو ہے۔
یہ بھاری ٹیکس بالآخر صارفین پر منتقل ہوتے ہیں،جس سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہو جاتی ہیں اور ان کے استعمال میں کمی آتی ہے،نتیجتاً تعلیم، صحت،مالیاتی خدمات اور ای کامرس جیسے شعبوں میں ڈیجیٹل رسائی محدودرہ جاتی ہے۔ زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے موبائل استعمال اور انٹرنیٹ کی رسائی کم ہونے سے معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سست پڑ جاتی ہے،جس کے باعث معیشت کاغیر دستاویزی حصہ برقراررہتاہے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع نہیں ہو پاتی۔
Leave A Comment