تازہ ترین

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، آگ پر 10 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جا سکا۔فائر بریگیڈحکام کا کہنا ہے کہ 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باوزر کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی آگ بجھانے میں مصروف جبکہ آگ کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔

آگ ہفتے کی رات سوا دس بجے کے قریب لگی اور اسے تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، آگ کی و جہ سے عمارت کے ایک حصے کا پلر گر گیا ہے جبکہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل گئیں۔  شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے،  آگ شاپنگ پلازہ کے میز نائن فلور پر لگی، آگ نے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کی دکانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا، شاپنگ پلازہ گراؤنڈ ، میز نائن پلس دو فلور پر مشتمل ہے۔ گل پلازہ میں فائر فائٹرز داخل نہیں ہوسکے، تپش زیادہ ہونےکی وجہ سے اندر داخل ہونےمیں مشکلات ہیں۔جاں بحق چار افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی۔عمارت میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ہے، دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے 2 افراد گر کر زخمی ہو گئے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق شاپنگ پلازہ میں دکانوں کی تعداد تقریباً 1200 ہے۔آتشزدگی کے باعث اطراف کے علاقوں میں تبت چوک سے  گارڈن چوک ایم اے جناح روڈ اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک ماسٹن روڈ بند ہے۔ٹریفک کو تبت چوک سے جوبلی کی طرف اور انکل سریا چوک سے ٹینکر چورنگی اور گارڈن چوک کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ شہریوں کیلئے محفوظ راستے کیلئے متبادل ٹریفک روٹس بنائے جائیں، ایس ایس پی سٹی آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگائیں۔عمارت میں آگ کو پھیلنے سے روکا جائے، فائر بریگیڈ گاڑیوں اور عملے کی رسائی کے لیے راستوں کو کلیئر رکھا جائے۔