انمول پنکی کیس کی جیل میں سماعت، اہم شخصیات کے نام لینے کی کوشش پر ہنگامہ آرائی
کراچی میں منشیات کے مبینہ منظم نیٹ ورک کی سربراہ ملزمہ انمول عرف پنکی کا کیس سٹی کورٹ کے بجائے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سینٹرل جیل میں قائم عدالت میں سماعت کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملزمہ پنکی کو جب پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو ایک بار پھر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔عدالت نے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔سیشن جج کراچی ساؤتھ نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ملزمہ کو درپیش ممکنہ سیکیورٹی خطرات اور غیر معمولی صورتحال کے باعث یہ حساس مقدمہ جیل کورٹ منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔پولیس کے مطابق ملزمہ کے خلاف تھانہ بغدادی میں دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ نمبر 147/2026 درج ہے، جبکہ وہ دیگر سنگین مقدمات میں بھی مطلوب ہے۔
درخشاں پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ کے بجائے جیل بھیجنے کے فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انمول عرف پنکی ایک شاطر ملزمہ ہے اور اس سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ انتہائی ضروری ہے، اس لیے ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔اس دوران ملزمہ کو جب جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبروپیش کرنے کے لیے جیل کورٹ لایا گیا تو وہاں شدید ہنگامہ آرائی دیکھی گئی۔
ملزمہ نے عدالت میں کچھ اہم اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کے نام لینے کی کوشش کی، تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر شور مچا کر ملزمہ کی آواز کو دبا دیا، جبکہ صحافیوں کو بھی عدالتی کارروائی کی کوریج کے لیے اندر جانے سے روک دیا گیا۔اس سے قبل جب ملزمہ کو پہلی بار پیش کیا گیا تھا تو پولیس میڈیا کو چکمہ دیتے ہوئے اسے ججز گیٹ کے راستے اندر لائی تھی، جہاں ملزمہ نے میڈیا کو دیکھ کر چیخ و پکار شروع کر دی تھی۔ملزمہ انمول عرف پنکی نے پولیس پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، مجھے لاہور سے پکڑ کر لائے ہیں اور بیس دن سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب کچھ ان کا سابقہ شوہر کروا رہا ہے۔
ملزمہ کا کہنا تھا کہ مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی تھی اور چھ آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لائے، پھر پندرہ دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ان کے مطابق مجھ سے زور زبردستی سے سیاسی اور دیگر لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔ملزمہ نے عدالت کے باہر کھلم کھلا یہ دعویٰ بھی کیا کہ مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو۔ پولیس نے میرے گھر میں پہلے سے منشیات پلان کی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو آپ نے مسکرا کر دروازہ کھولنا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر بتائے گئے نام نہ لیے تو میری فیملی کو اٹھا لیں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔اس دوران بھی جب خاتون پولیس اہلکار نے ملزمہ کا منہ بند کرنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور اب پکڑے جانے پر بیانات بدل رہی ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ پندرہ سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے اور ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ کراچی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی میں انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ شہر میں منشیات کی سپلائی کا ایک بڑا اور منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی اور طویل عرصے سے مفرور تھی۔