تازہ ترین

حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں 5.2 ارب ڈالر سے ناکام رہی، جبکہ برآمدی آمدن گھٹ کر 30.1 ارب ڈالر رہ گئی، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے میں 2ہندسوں کا اضافہ ہوا اور پاکستان کی معیشت کی بنیادی کمزوریاں ایک بار پھر نمایاں ہو گئیں۔مالی سال 2025-26کے دوران برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سالانہ تجارتی خسارہ 7 ارب ڈالر بڑھ گیا، جو تقریباً تین سالہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے حجم کے برابر ہے۔یہ ہدف ایسے وقت میں حاصل نہ ہو سکا جب پلاننگ کمیشن نے گزشتہ ماہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو سفارش کی تھی کہ معاشی مراعات کو تحفظ پسندی اور رینٹ سیکنگ کے بجائے پیداواری صلاحیت اور برآمدی کارکردگی سے منسلک کیا جائے۔تاہم حکومت نے اس سفارش پر عمل درآمد نہیں کیا اور ایک مرتبہ پھر عمومی نوعیت کی برآمدی سبسڈیز جاری رکھیں۔

گزشتہ مالی سال کے سالانہ منصوبے میں کہا گیا تھا کہ مالی سال 2025-26کے لیے برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جو قومی اقتصادی تبدیلی منصوبہ 2024-29سے ہم آہنگ ہے۔تاہم پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) نے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا کہ مالی سال 2025-26کے دوران برآمدات 6 فیصد کمی کے ساتھ صرف 30.1 ارب ڈالر رہیں۔حکومت مالی سال 2025-26کے دوران آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف سے بھی 975 ارب روپے (تقریباً 3.5 ارب ڈالر) کم رہی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.9 ارب ڈالر کم رہیں، برآمدات مسلسل منفی رجحان کا شکار رہیں، جبکہ درآمدات میں دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ دیکھا گیا۔اس کی وجہ بجٹ میں درآمدی ڈیوٹی میں نرمی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں قرار دی جا رہی ہیں۔

Leave A Comment

Advertisement