رحیم یارخان (أن لائن ) "اب صرف چہرے نہیں، نظام بدلیں گے" کسان ملک کا نائبِ خدا ہے لیکن اسے اپنی فصل کی لاگت بھی نہیں مل رہی۔" نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بننا ناگزیر ہو چکا، ان خیالات کا اظہار پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے "میٹ دی پریس" سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

چیئرمین کسان بچاؤ تحریک چودھری محمد یاسین، دیگر عہدیداران چودھری نصیر احمد وڑائچ، سید محمود الحق بخاری، جنید عالم نائچ، سید مظہر الحق بخاری اور چودھری ابوبکر توصیف سمیٹ دیگر بھی موجود تھے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے  کہا کہ انتظامی لحاظ سے پنجاب کے 10 سے 6 صوبے بننا ناگزیر ہو چکے ہیں اور صوبہ بہاولپور بننا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ہی نہیں بلکہ کے پی کے، بلوچستان اور سندھ میں بھی نئے صوبے بنائے جائیں تا کہ انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں، تاہم صرف صوبے بنانا کافی نہیں بلکہ مسائل کا اصل حل گڈ گورننس میں پنہاں ہے۔ رحیم یار خان کے کسان کو انصاف کے لیے لاہور کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقے کے اثاثے اور بینک بیلنس بڑھ رہے ہیں جبکہ کسان اپنی بیٹیوں کی شادیاں منسوخ کرنے پر مجبور ہے، انہوں نے موجودہ نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم، دالیں اور تیل باہر سے منگوایا جا رہا ہے۔ بلا ضرورت گندم درآمد کر کے ملکی کسان کا معاشی قتل کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شوگر سیس کا پیسہ صرف کسان کی فلاح پر خرچ کیا جائے اور حکومت کسانوں کو ان کی محنت کا جائز حق اور تحفظ فراہم کرے، ورنہ ملکی فوڈ سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔ انھیں وجوہات پر انھوں نے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بننے کی تحریک کا اعلان کیا ہے ۔ چودھری محمد یاسین، سید محمود الحق بخاری، چودھری نصیر احمد وڑائچ، جنید اسلم نائچ سمیت دیگر عہدیداران نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کسانوں کو درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا اور صوبہ بہاولپور کی بحالی سمیت دیگر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا بننا ناگزیر قرار دیا۔

Leave A Comment

Advertisement