رحیم یار خان : گندم کی قیمت کم از کم 5 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے، سید محمود الحق
رحیم یار خان (ان لائن) آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید محمود الحق بخاری نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی آئندہ پالیسی کا فوری اعلان کرتے ہوئے گندم کی قیمت کم از کم 5 ہزار روپے فی من مقرر کی جائے، بصورت دیگر کسان گندم کی کاشت سے گریز کرنے پر مجبور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں، اگر حکومت کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت فراہم کرے۔
ملتان میں آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید محمود الحق بخاری نے پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر کے ہمراہ صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی اور سیکرٹری زراعت شکیل سے ملاقات کی، جس میں کسانوں کو درپیش مسائل، گندم پالیسی، گنے کے نرخ، کھادوں کی قیمتوں اور حکومتی زرعی سکیموں سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سید محمود الحق بخاری نے کہا کہ اکتوبر کے آخر میں گندم کی کاشت شروع ہوجاتی ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر گندم پالیسی کا اعلان کرے تاکہ کسان بروقت فصل کی منصوبہ بندی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گندم درآمد کررہی ہے، جس کی لاگت بھی بالآخر تقریباً اسی سطح پر پہنچے گی، مگر ملکی کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں دیا جارہا۔
حکومت اگر کسان کو گندم کا مناسب ریٹ دے تو ملک گندم میں خودکفیل ہوسکتا ہے اور درآمد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور دیگر پیداواری اخراجات کا سامنا کررہا ہے، ایسے میں کم نرخ پر گندم کی فروخت کسان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔گنے کا ریٹ 700 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ سید محمود الحق بخاری نے کہا کہ گنے کا سیزن بھی شروع ہونے والا ہے، حکومت فوری طور پر گنے کی قیمت 700 روپے فی من مقرر کرے اور کسانوں کو شوگر ملز کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ گزشتہ گنے کے سیزن میں کسانوں کو شوگر ملز کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے مطابق کین کمشنر پنجاب بھی کسانوں کو مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ کین کمشنر کے دفتر کو مؤثر اور فعال بنایا جائے اور کسانوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے الگ کین کمشنر تعینات کیا جائے۔چیئرمین ال پاکستان کسان فاؤنڈیشن نے کہا کہ موجودہ کین کمشنر امجد حفیظ ڈائریکٹر فوڈ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں، بیک وقت دو اہم ذمہ داریاں ہونے کے باعث کسانوں کے مسائل پر مطلوبہ توجہ دینا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کین کمشنر کا دفتر کسانوں کی رسائی میں ہونا چاہیے تاکہ شوگر ملز سے متعلق شکایات اور مسائل فوری طور پر حل ہوسکیں۔سید محمود الحق بخاری نے کہا کہ کسان کارڈ، ٹریکٹر سکیم اور دیگر حکومتی منصوبوں کے باوجود زراعت کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے۔ کسانوں کو ایسی سکیموں کے بجائے پیداوار کی لاگت کے مطابق فصلوں کے منافع بخش نرخ اور سستی زرعی مداخل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کھادوں میں سبسڈی کا فائدہ بھی کسان تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہا، اس لیے حکومت کھادوں کی قیمتوں میں کمی کرے اور تمام اہم فصلوں کے مناسب اور منافع بخش ریٹس مقرر کرے تاکہ کسان معاشی طور پر مستحکم ہوسکے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کسانوں کی بہتری اور زراعت کی ترقی کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کررہی ہیں۔ انہوں نے کسان رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے مسائل وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں حل کروانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ملاقات میں پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر، سید محمود الحق بخاری، سرپرست اعلیٰ کسان فاؤنڈیشن و چیئرمین شوگر کین گروورز ایسوسی ایشن جنید اسلم نائچ، صدر گروورز ایسوسی ایشن ڈاکٹر فرید الحق رحمانی اور عامر غنی بھی موجود تھے۔
Leave A Comment