تازہ ترین

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے چیئرمین شام لال منگلانی نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان کو جمخانہ کلب میں تبدیل کرنے کا مجوزہ منصوبہ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے۔

چیئرمین پی سی اے نے کہا کہ سی سی آر آئی ملتان1970 سے پاکستان کا سب سے اہم، مرکزی اور خصوصی کپاس تحقیقی ادارہ ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف کپاس کی قومی تحقیق کی ریڑھ کی ہڈی بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہے۔ اس ادارے نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں 40 سے زائد اعلیٰ معیار کی کپاس کی اقسام تیار کیں، جن میں سے متعدد آج بھی کاشتکاروں کی پسند ہیں۔انھوں نے کہا کہ سی سی آر آئی ملتان میں پاکستان کا سب سے بڑا کاٹن جین پول موجود ہے، جس میں دنیا کے 41 ممالک سے جمع کیے گئے6,200 سے زائد جرم پلازم محفوظ ہیں۔ یہ نایاب جینیاتی ورثہ ملک کی خوراک اور معاشی تحفظ کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہے۔ ادارے کے تجرباتی کھیت، جدید لیبارٹریاں اور تحقیقی نظام ایک دوسرے سے گہرے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی افادیت مشترکہ نظام کے تحت ہے۔

شام لال منگلانی نے مزید کہا کہ پاکستان کی تین تاریخی بمپر فصلیں (1991-92، 2004-05 اور 2014-15) میں سی سی آرآئی ملتان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ ادارہ عالمی سطح پر پاکستان کی کپاس کی تحقیق کی پہچان ہے اور انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (ICAC) سمیت متعدد عالمی اداروں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں بھی محدود وسائل کے باوجود ادارہ خدمات انجام دے رہا ہے، مگر اس کی کمزوری کے باعث قومی کپاس کی پیداوار کم ہو کر50 لاکھ بیلز تک گر چکی ہے۔ اگر اس ادارے کو مزید نقصان پہنچا تو پنجاب کا کسان کپاس کی کاشت چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا، جو نہ صرف کپاس بلکہ خوردنی تیل (65 فیصد)، دودھ، گوشت اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر ڈالے گا۔

پی سی جی اے کے مطالبات،سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کو جمخانہ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔سی سی آر آئی ملتان کی اراضی کو”قومی زرعی تحقیقی ورثہ“ قرار دیا جائے۔ادارے کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے 2 ارب روپے کا خصوصی گرانٹ جاری کیا جائے۔چیئرمین پی سی اے نے کہا کہ جمخانہ کلب ملتان میں کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے جگہ کئی متبادل جگہیں پہلے سے موجود ہیں، مگر50 سالہ کپاس کی جینیاتی تحقیق، نایاب جین پول اور قومی تحقیقی نظام کو منتقل کرنا ممکن نہیں۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کسان دوست حکومت کی پالیسی کے تحت فوری مداخلت کریں گے اور2 کروڑ افراد کے روزگار، قومی معیشت اور زرعی مستقبل کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔

Leave A Comment

Advertisement