رحیم یارخان : بہیمانہ تشدد سےخمی ہونے والا 30سالہ نوجوان ہسپتال میں دم توڑگیا
رحیم یارخان(أن لائن)سیڑھی واپس مانگنے کے تنازع کی رنجش پر ملزمان کے بہیمانہ تشدد سے شدیدزخمی ہونے والا 30سالہ نوجوان ہسپتال میں دم توڑگیا’پولیس نے مقتول کی نعش تحویل میں لیکرپوسٹ مارٹم کے بعد تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کرنے کے بعداقدام قتل کے درج مقدمہ میں قتل کی دفعات کااضافہ کردیا’24گھنٹے گزرجانے کے باوجود پولیس درج مقدمہ کے کسی بھی ملزم کوگرفتارکرنے میں ناکام رہی.
دستگیرکالونی نمبر2کے رہائشی عبدالرحمن شاہد نے پولیس کودی جانیوالی اپنی شکایت میں بیان کیاکہ اس کابھائی عثمان شاہدرنگ سازی کاکام کرتاہے جس سے اسی علاقہ کارہائشی ملزم خالدماہی سیڑھی مانگ کرلے گیا’واپس نہ کرنے پرعثمان شاہد سیڑھی مانگے کیلئے ملزمان کے گھرگیاجہاں ملزمان دانش’ شاہجہاں’ معیز’آصفہ بی بی’ عماد رمضانہ بی بی نے اس کے ساتھ مارپیٹ کی’شام کے وقت وہ اپنے بھائیوں معین شاہد’ عثمان شاہد’ نعمان شاہد’ والدہ وغیرہ کے ہمراہ گھرپرموجودتھاکہ ڈنڈوں’سوٹوں’ آہنی راڈوں سے مسلح ملزمان دانش’ شاہجہاں’ معیز’آصفہ بی بی’ عماد رمضانہ بی بی چارپانچ کس نامعلوم گھرمیں داخل ہوئے اورگھرمیں موجود اس کی والدہ رخسانہ کوثروالدشاہداقبال نے ملزمان کوسمجھانے کی کوشش کی جنہوں نے والدین پرحملہ کرنے کے بعداس سمیت بھائیوں معین شاہد’ عثمان شاہد’نعمان شاہد کو ڈنڈوں’سوٹوں’ آہنی راڈوں سے بہیمانہ تشددکانشانہ بنایاجس سے سارے بھائی شدیدزخمی ہوگئے جبکہ معین شاہدسرپرلگنے والی گہری ضرب کے باعث شدید زخمی ہوگیاجسے فوری طورپر دیگربھائیوں کے ہمراہ طبی امداد کیلئے شیخ زیدہسپتال منتقل کیاگیاجہاں معین شاہد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا.
اطلاع ملنے پرپولیس نے مقتول معین شاہد کی نعش تحویل میں لیکرپوسٹمارٹم کے بعدتدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کرنے کے بعد اقدام قتل کے درج مقدمہ میں قتل کی دفعات کااضافہ کردیا’تاہم24گھنٹے گزرجانے کے باوجود پولیس درج مقدمہ کے کسی بھی ملزم کوگرفتارکرنے میں ناکام رہی ہے۔