تازہ ترین

رحیم یارخان (آن لائن )پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے حب اینڈ سپوک ماڈل ہسپتال میں ایمرجنسی کی سہولت فراہم کردی گیی ہے قومی شاہراہ پر واقع نواحی قصبے ظاہر پیر میں 3.6ارب روبے کی لاگت سے چارسالوں میں سات ایکڑ رقبے میں مکمل ہونے والے اس جدید ہسپتال میں  قبل بیرونی مریضوں کو علاج کی سہولت کا أغاز کیا گیا تھا جہاں پہلے روز 108مریضوں کے بعد اب روزانہ اڑھائ تین سو سے زائد مریض علاج کی سہولیات حاصل کر رہے ہیں  

ہسپتال کے پہلے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران بشیر نے 18جون سے اوپی ڈی کے أغاز کے بعدمنگل کے روز ایمرجنسی وارڈ کا افتتاح کرتے ہوے اپنی نگرانی علاج کی فراہمی کا کام شروع کردیا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے ایم ایس نےبتایا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اپنی نوعیت کا یہ ہسپتال اس علاقے کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے جسے شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان سے منسلک کردیا گیا ہے خوب صورت اور جدید طرز کی اس عمارت اور تزین وارائش سے مزین ہسپتال میں ابتدائ طور پر پانچ شعبے قائم کیے گیے ہیں جن میں بچوں خواتین  بچوں اور ہڈیوں کے شعبے شامل ہیں قائم کیے گیے ہیں جدید أپریشن تھیٹر  تشخیص  کے لیے   ایکسرے الٹراساونڈ سیٹی سکین ودیگر ٹیسٹوں کی جدید مشینری فراہم کی گیی ہے۔اس حب اینڈ سپوک ماڈل ہسپتال کو شیخ زید ہسپتال کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے جس سے مریضوں کے علاج ڈاکٹروں کی ٹریننگ اور رہنمائ میں مدد فراہم کی جاسکے گی ۔ اس ہسپتال سے نہ صرف قرب وجوار کے ہزاروں دیہاتوں بستیوں قصبوں کے مریض استفادہ حاصل کر رہے ہین بلکہ ضلع راجن پور ودیگر اضلاع کے مریض بھی أنے لگے ہیں جنہیں بیماریوں سے بچاو کے طریقوں اور متوازن خوراک کے بارے میں اگاہی دی جارہی مریضوں کو علاج کی بہترین سہولت ورہنمای کے لیے عملہ کی خوش اخلاقی پر فوکس کر رکھا ہے حب اینڈ سپوک دنیا میں نیا ماڈل ہے پاکستان میں اپنی نوعیت کایہ پہلا ہسپتال ہے اس کی کارکردگی کو دیکھ کر ملک مین اس طرح کے نیے بھر میں قائم کرنے کے فیصلے کیے جائیں گے ڈاکٹر عمران بشیر نے بتایا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کا انہیں موقع ملا ہےاسکے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں بروے کار لا رہے ہیں عوام انہوں نےعلاقے کی سیاسی سماجی کاروباری شخصیات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ہسپتال کی کارکردگی بہتر بنانے میں تعاون کریں

Leave A Comment

Advertisement