رحیم یارخان : روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان
اندرون ملک معیاری روئی کی انتہائی محدود دستیابی اور عالمی جنگی حالات کے باعث بیرون ملک سے روئی درآمدات معطل ہونے سے گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان۔روئی کی قیمتیں 500روپے فی من اضافے کے ساتھ سترہ ہزار روپے فی من تک پہنچ گئیں،رواں ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا رجحان ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کے باعث پچھلے ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں ریکارڈ تیس روپے فی کلو گرام اضافے کے بعد سوتی دھاگے کی قیمتوں میں زبردست تیزی کے رجحان کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے جبکہ رواں سال غیر متوقع طور پر ٹیکسٹائل ملز موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لئے پچھلے سالوں کے مقابلے میں معیاری روئی کی زیادہ خریداری کرر ہی ہیں جسے ابتدائی طور پر درآمدی روئی سے پورا کیا جا رہاتھا تاہم جاری عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی روئی کی شپمنٹس معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملز نے اندرون ملک سے روئی کی خریداری شروع کی لیکن معیاری روئی کی انتہائی محمدود دستیابی کے باعث روئی کی قیمتوں میں پانچ سو روپے فی من اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس میں رواں ہفتے مزید تیزی کا رجحان متوقع ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید الفطر کے بعد روئی کی قیمتیں اٹھارہ ہزار روپے فی من کی حد کو چھو سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نان فرینڈلی صنعتی پالیسیوں کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعدخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے ملکی برآمدات میں مزید کمی واقع ہو گی۔
فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر(ایف سی اے) ہرسال پاکستان میں کپاس کی کاشت اور پیداواری ہدف جاری کرتی ہے جس کا عموماً حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ایف سی اے پچھلے کئی سالوں سے پاکستان میں کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ بیلز سے زائد جاری کرتی ہے جو کہ پچھلے کم از کم دس سال سے زائد عرصے سے کبھی بھی حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود یہ ”ڈرائنگ روم“ ہر سال جاری کیا جا رہا ہے جس سے روئی کی کھپت کرنے والی صنعتوں کو اپنی حکمت ترتین دینے دینے میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق اپریل کے پہلے ہفتے میں ایف سی اے کے اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس سال انہیں چاہیئے کہ وہ حقیقت پر مبنی اہداف مقرر کریں تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کا اس ادارے پر اعتماد بحال ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ بارہ دسمبر 2025ء سے کراچی کاٹن ایسوسی ایشن(کے سی اے) کی بلڈنگ ایف آئی اے کی جانب سے سربمہر ہونے کے بعد سے اب تک اوپن نہ ہونے سے اسپاٹ ریٹ جاری نہ ہونے کے باعث پاکستانی کاٹن کی نمائندگی عالمی کاٹن مارکیٹس میں نہیں ہو رہی جو ملکی تاریخ میں ایک منفرد واقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ معزز سندھ ہائی کورٹ نے چار مارچ کو اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب تک نہیں سنایا جا سکا جس کے باعث تمام کاتن اسٹیک ہولڈرز میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔