تازہ ترین

ڈی پی او عرفان علی سموں نے کہا ہے کہ کچہ میں گو لیوں کی گھن گرج کی بجائے سکولوں کی گھنٹیاں بجا دی گئی ہیں، سرنڈر ڈاکوؤں کے بچوں کو کتابیں، وردیاں اور بستے مہیا کر کے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کروا دیا گیا، کچے کے بچے قلم سے اپنی اور علاقہ کی تقدیر لکھنے کی پوریصلاحیت  رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کچہ میں سکول کیمپس کے قیام اور بچوں کو بستے اور کتابیں مہیا کیے جانے پر گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ آج کچہ کی صورت حال مختلف منظر پیش کر رہی ہے، کچہ کے باسی اور ان کی مال و جان محفوظ ہے خطرناک ڈاکو سرنڈر ہو کر عام آدمی کی طرح زندگی کی طرف لوٹ آئے ہیں اور ان کی بچے کبھی اپنے بڑوں کے ساتھ ہتھیاروں کے ساتھ دیکھے جاتے تھے آج کتابیں اور بستہ تھامے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی اور علاقہ کی تقدیر بدلنے کے لیے تعلیم کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ کچہ کے عام بچوں کے ساتھ سرنڈر ہونے والے ڈاکوؤں کے سینکڑوں بچوں کو کتابیں، وردیاں اور بستے فراہم کر دئیئے گئے ہیں جو کہ اپنی خوف سے دبی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی، خاندان اور علاقہ کی تقدیر بدلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کچہ کی سونا اگلتی زمین اور اہل علاقہ کی محنت بہت جلد رنگ لائے گی علاقہ میں امن کے ساتھ معاشی ترقی لوگوں کی خوشحالی کی صورت میں ظاہر ہو گی، انہوں نے کہاکہ کچہ میں امن لانا جان جوکھوں کا کام ہے اب کسی کو بد امنی کا موقع دیا جائے گا نہ جرات۔

Leave A Comment

Advertisement