تازہ ترین

رحیم یارخان (أن لائن) ولی عہد ریاست بہاولپور پرنس بہاول عباس خان عباسی نےڈسٹرکٹ پریس کلب میں ”میٹ دی پریس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست بہاولپور کی بحالی کی تحریک کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ جدوجہد ان کے آباؤ اجداد کے دور سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے موجودہ حالات میں جب ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس اور صوبوں کے قیام کی بات ہو رہی ہے تو بہاولپور صوبہ بحالی کا مطالبہ مزید مضبوط اور ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس موقع پر صاحبزادہ میاں عادل جاوید عباسی‘ سردار یحییٰ خان کلاچی‘ سردار فیض خان خاکوانی‘ سردار سہیل خان عباسی‘ سردار عبدالغفار خان عباسی‘ سردار عزیر خان عباسی‘ عباسی‘ سردار عبید اللہ خان عباسی‘ سید محمود الحق بخاری ودیگر موجود تھے ولی عہد بہاولپورنے واضح کیا کہ بہاولپور کو کسی دوسرے انتظامی یونٹ میں ضم کرنے کے بجائے ایک باقاعدہ‘ خودمختار صوبے کی حیثیت دی جائے جس کیلئے انہوں نے منظم اور بھرپور تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ صوبہ بہاولپور لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ مساوات‘ انصاف اور عوامی فلاح کے اصولوں پر قائم ہوگا جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے وہ امیر ہوں یا غریب سب کو یکساں حقوق اور مواقع حاصل ہوں گے۔

بہاولپور صوبہ کے خاتمے سے سب سے زیادہ نقصان غریب عوام اور عباسی خاندان کو ہوا اور ماضی میں اس آواز کو دبانے کیلئے سیاسی سطح پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے نواب صادق خان عباسی کو گورنر جنرل بننے کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بہاولپور کی قیادت نے ہمیشہ اصولوں اور قومی مفاد کو ترجیح دی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات اور قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم کیا جائے گا اور اسے ہر فورم پر موثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا تاکہ عوام کو ان کا جائز حق دلایا جا سکے۔

Leave A Comment

Advertisement