رحیم یارخان: کچہ کے ڈاکوکی فائرنگ سے نوجوان کے قتل کامعاملہ‘ نامزدملزم کے بیان پر2سابق سب انسپکٹر ملزم نامزد
کچہ کے ڈاکوکی فائرنگ سے نوجوان کے قتل کامعاملہ‘ پولیس نے درج مقدمہ کے نامزدملزم کے بیان پر نوکری سے برطرف دوسابق سب انسپکٹروں کو ملزم نامزدکردیا‘ مقتول کے ورثاء نے پنچائیت میں مرکزی ملزم کو ایک کروڑ45لاکھ روپے دیت وصول کرکے مقتول کاقتل معاف کیاتھا مقتول کے قتل میں دوسابق پولیس انسپکٹرملوث تھے ایماء پرقتل کیابیان‘ پولیس تھانہ صدرصادق آباد نے چک158 پی کے رہائشی شبیراحمدجسے 16مئی کو گھرجانے کے دوران کچہ کے ڈاکو میرحسن عرف میرالٹھانی نے فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا جس کے قتل کامقدمہ میرالٹھانی کے خلاف درج کیاچند روز قبل میرحسن عرف میرالٹھانی کے ہتھیارڈال کرخود کوپولیس کے حوالے کرنے پردرج مقدمہ پرسابق ممبرصوبائی اسمبلی کی قیادت میں منعقد کی جانیولای پنچائیت میں ملزم میرحسن عرف میرالٹھانی کوایک کروڑ45لاکھ روپے دیت کی رقم ورثاء کو دینے کا فیصلہ کیاتھا جس پر مقتول کے ورثاء نے مرکزی ملزی میرالٹھانی کو قتل معاف کیاتھا تاہم گزشتہ روز پولیس نے مرکزی ملزم ڈاکومیرحسن عرف میرالٹھانی کو کے تتیمہ بیان پر نوکری سے برطرف دوپولیس سب انسپکٹروں نویدنواز واہلہ‘ اورسیف اللہ ملہی سمیت چک158پی کے رہائشی محمدعاصم اوراصغرکو قتل کے اس مقدمہ میں ملزم نامزدکردیامقتول اور انسپکٹروں کے درمیان رنجش کی بناء پرڈاکوکی مددسے قتل کی واردات کی گئی
واضح رہے کہ سب انسپکٹرنویدنوازواہلہ اورسیف انسپکٹرسیف اللہ ملہی کوکچھ عرصہ قبل کچہ کے ڈاکوؤں کی سہولت کار ی کرنے کاجرم ثابت ہونے پرنوکری سے برطرف کردیاگیاتھا۔
Leave A Comment