ہمیں اگر فارم47 کا کہتے ہو، تو صدر نے جو ووٹ لیے ہیں وہ کس فارم کے تھے؟ سینیٹر رانا ثناءاللہ
وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ ہمیں اگر فارم47 کا کہتے ہو، تو صدر نے جو ووٹ لیے ہیں وہ کس فارم کے تھے؟ سینیٹر رانا ثناءاللہ نے بلاول بھٹو کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اگر فارم 47 کا کہتے ہو، تو صدر نے جو ووٹ لیے ہیں وہ کس فارم کے تھے؟ یعنی اگر انہی ووٹوں سے آپ کے والدِ محترم صدر بنے، تو وہ صدرِ پاکستان ہیں، لیکن وزیراعظم کو کہتے ہو کہ ہم نہیں مانتے؟
دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے 2 اگست سے پہلے دھاندلی سے متعلق شکایات کی کھلی عدالت میں سماعت کرنے کا مطالبہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج، بیلٹس اور انتخابی ریکارڈ عوام کے سامنے رکھے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت کو جتوانا نہیں ہے بلکہ کشمیر کے عوام کے ووٹ کا تحفظ کرنا ہے۔الیکشن کمیشن 2 اگست سے پہلے دھاندلی سے متعلق شکایات کی کھلی عدالت میں سماعت کرے۔ کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کی کریڈیبلٹی کا فیصلہ پہلے مرحلے میں انصاف سے ہوگا۔ الیکشن کمیشن دو اگست سے پہلے دھاندلی سے متعلق تمام شکایات کی کھلی عدالت میں سماعت کرے۔ الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج، بیلٹس اور انتخابی ریکارڈ عوام کے سامنے رکھے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت کو جتوانا نہیں ہے بلکہ کشمیر کے عوام کے ووٹ کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمیں کسی کا احسان نہیں بلکہ ہمیں ہمارا حق چاہئیے۔ ہمیں صرف صاف و شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات چاہئیں۔
Leave A Comment