مانیٹری پالیسی: اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود ساڑھے 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پالیسی اجلاس میں 10 اراکین میں سے 7 نے شرح سود برقرار رکھنے کے لئے ووٹ کیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہونے سے عالمی سطح پر خام مال اور دیگر اشیاء کے پہلے سے بلند دام مزید بڑھ گئے ہیں۔ جنگ کے باعث عالمی سطح پر سپلائی چین کے مسائل بھی بدستور برقرار ہیں۔ تاہم ملکی معاشی اعداد کافی حد تک کمیٹی کی توقعات کے مطابق رہے ہیں۔ مہنگائی جولائی کے 9.2 فیصد کے مقابلے میں اگست میں سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم، تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی مضبوط ترسیلات زر کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ کنٹرول میں رہا اور معاشی سرگرمیاں بھی بتدریج بہتر ہو رہی ہیں۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی درمیانی مدت کے دوران مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے مناسب ہے۔ تاہم، جیو پولیٹیکل صورتحال نے مستقبل کے معاشی منظر نامے سے متعلق بے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کی پالیسی کمیٹی نے اس لئے محتاط مانیٹری اور اقتصادی پالیسی کو جاری رکھنا ضرورت قرار دیا ہے۔ پالیسی کمیٹی سمجھتی ہے کہ احتیاط سپلائی کے جھٹکے برداشت کرنے، بفرز مضبوط کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ مرکزی بینک نے ایک بار پھر نشاندہی کی ہے کہ ساختی اصلاحات پائیدار معاشی نمو کے لیے نہایت ضروری ہیں۔