تازہ ترین

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، کچھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔  ملک کے 4.2 کروڑ گھروں میں سات فیصد میں ایئر کنڈیشنر لگے ہیں، یہ گھرانے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہئیں، گزشتہ مالی سال 49 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی، رواں سال تعداد بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی، ان میں 3.20 لاکھ افراد نے ریٹرن میں ظاہر کیا کہ ان پر ٹیکس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، جو سنجیدہ مسئلہ ہے۔پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے، جس کی وجہ محدود ٹیکس نیٹ اور کمپلائنس ریٹ کم ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ نہ بڑھنے کا بوجھ چند مخصوص طبقات پر پڑے گا، زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، وہ آمدن چھپا نہیں سکتے، خطے میں پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح نسبتا زیادہ ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھنے سے ہی شرح میں کمی ممکن ہے، 1.76 لاکھ ڈاکٹروں میں صرف 55 ہزار نے ریٹرن جمع کرائی، ان میں 39 ہزار نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ 100 روپے کے محصولات میں صرف 38 روپے وفاقی حکومت کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے وفاق کے مالی وسائل محدود ہیں، ایکسپورٹرز کےلئے الگ الگ ٹیکس ریٹس نہیں ہونے چاہئیں، اگر کمپنی غلط ٹیکس ریٹرن جمع کرواتی ہے تو اس کا آڈٹ ہو گا۔ ایف بی آر محصولات میں اضافے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا، شوگر ملز کی نگرانی اور موثر چیک اینڈ بیلنس سے اربوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔ایف بی آر میں کرپشن پر انہوں نے کہا کہ اس الزام میں متعدد افسران گرفتار کیے جو ادارہ کی احتساب کے عمل میں سنجیدگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام کو منصفانہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور کمپلائنس بہتر بنانے کےلئے اصلاحات جاری رکھے گا تاکہ بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ رہے۔

 

 

 

Leave A Comment

Advertisement