نورمقدم قتل کیس: مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف نظرثانی درخواست خارج
سپریم کورٹ میں نورمقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کردی گئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے متفقہ فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ میں نورمقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی،مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ مقتولہ کا ٹیسٹ تو کرایاگیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیسٹ نہیں ہوا، سوال ہے کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا؟استغاثہ نے دباؤ میں آ کر میرے موکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا،خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چل رہا تھا مجرم کو نشے کا عادی ثابت کرکے بچایا جائے گا، معذرت کےسا تھ جج صاحب نے بھی میڈیا کا پریشر لیا۔
عدالت نے کہاکہ عدالتیں فیصلہ اخباری رپورٹنگ یا سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر نہیں کرتیں۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہاکہ خواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل میں تضاد ہے،عدالت نے کہاکہ آپ کہہ رہے ہیں وقوعہ کے وقت مجرم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، مطلب یہ ہوا آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں۔ فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اس صورتحال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں؟اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہو جاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا؟خواجہ حارث نے کہاکہ ہم نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی،سپریم کورٹ میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی،میں دوبارہ ٹرائل نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں،سزائے موت سناتے وقت عدالت کو حقائق سامنے رکھنے چاہئے تھے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ ہم کب سے آپ کو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں،آپ نے ہمیں 3گھنٹے سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی، عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو چیلنج نہیں کیا گیا۔