اسلام آباد : مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
مارکیٹ سے حاصل کیے گئے بناسپتی گھی کے کل نمونوں میں سے تقریباً 48 فیصد، ریفائنڈ پام آئل کے 75 فیصد اور پیک شدہ دودھ کے 44 فیصد نمونے غیر معیاری پائے گئے ہیں، جو عوام میں دل کی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزارتِ منصوبہ بندی کی طرف سے سرکاری طور پر جاری کی جانے والی ان معلومات کی بنیاد ملک بھر سے جمع کیے گئے بناسپتی گھی، خوردنی تیل اور پیک شدہ دودھ کے 491 نمونوں پر تھی۔ ان نمونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) میں کیا گیا۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے بتایا کہ ان میں سے 176 نمونے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے، جو کہ تقریباً 36 فیصد کی غیر مطابقت کی شرح کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ 315 نمونے طے شدہ قومی معیارات کے مطابق پائے گئے۔
یہ نتائج نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے اجلاس میں پیش کیے گئے، جس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے رجحانات اور خوراک کے معیار کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ وفاقی وزیر کی ہدایات پر کی جانے والی اس لیبارٹری اسسمنٹ کی حتمی رپورٹ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) نے تیار کی، جسے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے پی سی ایس آئی آر کے ذریعے کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔
اس رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ مارکیٹ میں دستیاب پیک شدہ غذائی مصنوعات کے معیار سے متعلق شدید تحفظات موجود ہیں۔ رپورٹ کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98 (یعنی 48 فیصد)، بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40 (یعنی 27 فیصد)، اور پیک شدہ مائع دودھ کے 104 میں سے ایک چوتھائی یعنی 26 نمونے معیار پر پورا نہ اتر سکے۔ اسی طرح ملک پاؤڈر کے 18 میں سے 8 نمونے، ریفائنڈ پام آئل کے 4 میں سے 3 نمونے اور ریفائنڈ کینولا آئل کے 13 میں سے 1 نمونہ طے شدہ معیارات میں ناکام رہا۔
ان نتائج نے مارکیٹ میں کم معیار کی خوراک کی دستیابی اور ملاوٹ کو روکنے میں فوڈ ریگولیٹری اتھارٹیز کی ناکامی پر شدید خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ نمونوں کی ایک رپورٹ کے مطابق جہاں دودھ میں چکنائی (ملک فیٹ) کی کم از کم حد 3.5 فیصد ہونا ضروری تھی، وہاں صرف 0.8 فیصد فیٹ پائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بڑی ملٹی نیشنل پیک شدہ دودھ بنانے والی کمپنیوں کے نمونے تو معیارات کے مطابق تھے، لیکن نسبتاً نامعلوم مقامی برانڈز کے معاملے میں معیار کے سنگین مسائل سامنے آئے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے خاص طور پر نوجوان پاکستانیوں میں دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوام کی شدید تشویش کا سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کا معیار اب ایک قومی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی صحت معاشی اور ریگولیٹری پالیسی سازی کے مرکز میں رہنی چاہیے اور اس اقدام کا مقصد محض خامیاں تلاش کرنا نہیں بلکہ ہر شہری کو قومی معیار کے مطابق محفوظ، صحت بخش اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے تمام صوبائی حکومتوں، علاقائی انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری حکام کو ہدایت کی کہ وہ ملک بھر میں فروخت ہونے والے کھلے (غیر پیک شدہ) خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے معیار کا بھی ایک جامع ملک گیر سائنسی سروے شروع کریں، کیونکہ پہلے مرحلے کی لیبارٹری ٹیسٹنگ میں کھلی مصنوعات شامل نہیں تھیں۔ اس سروے کا مقصد ان بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی اشیاء کے معیار کا سائنسی جائزہ لینا، علاقائی رجحانات اور خامیوں کی وجوہات کا تعین کرنا اور یہ دیکھنا ہے کہ آیا غیر معیاری مصنوعات عوام کی صحت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فوڈ سیفٹی کے معیارات، ریگولیٹری نگرانی اور صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے عملی تدابیر تجویز کی جائیں۔ نتائج کا مکمل سائنسی جائزہ لینے کے لیے منصوبہ بندی کے وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی، پی سی ایس آئی آر اور پی ایس کیو سی اے کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی تکنیکی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی، جو لیبارٹری کے نتائج کا تنقیدی جائزہ لے کر مناسب ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات کے لیے ثبوت کی بنیاد پر سفارشات پیش کرے گی۔