تازہ ترین

امریکہ میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دنیا کے مشہور فٹ بالر لیونل میسی سمیت کئی دیگر کھلاڑیوں کو بم سے اڑانے اور سیکیورٹی سے متعلق سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عالمی مقابلے کے دوران کھلاڑیوں اور کھیل کے انتظامی افسران کو شدید خطرات کا سامنا رہا، جن میں لیونل میسی سب سے زیادہ نشانہ بنے۔

 امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نگرانی میں کام کرنے والے بین الاقوامی سیکیورٹی نیٹ ورک نے عالمی کپ کے دوران موصول ہونے والی تمام دھمکیوں پر کڑی نظر رکھیایک سنسنی خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈلاس کے ہوائی اڈے پر ایک شخص نے فون کر کے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اسٹیڈیم کی طرف جا رہا ہے اور ان کے پاس گھر میں بنے بم اور جدید ہتھیار موجود ہیں اور ان کا بنیادی ہدف پولیس اور لیونل میسی ہیں۔اس کے علاوہ اٹلانٹا میں ارجنٹائن اور مصر کے میچ سے قبل ایک شخص نے سوشل میڈیا پر اپنے جسم سے چار بم باندھ کر میسی پر حملہ کرنے کی دھمکی دی۔اسی میچ کے دوران اسٹیڈیم کے کوڑے دان میں تین بم رکھنے کی بھی فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس نے خصوصی کتوں اور بم ناکام بنانے والے دستوں کی مدد سے پورے اسٹیڈیم کی تلاشی لی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا کہ پوسٹ لکھنے والا چار بم لے کر اٹلانٹا اسٹیڈیم میں داخل ہونے والا تھا اور اس کا ارادہ میسی کو قتل کرنا تھا۔“

صرف میسی ہی نہیں بلکہ پرتگال کے مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو بھی مسلسل پریشان کیا گیا۔ ہیوسٹن شہر میں رونالڈو کی رہائش اور ہوٹل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک مشکوک شخص کو پولیس نے ہوٹل سے ہی گرفتار کر لیا۔

 فرانس کے ایک ریفری فرانسس لیٹیکسیئر کو واٹس ایپ پر چھ ہزار سے زیادہ دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ان تمام خطرات کو ناکام بنایا اور ایونٹ کو امن و امان کے ساتھ مکمل کروایا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ تمام دھمکیاں حقیقی حملوں میں تبدیل ہونے والی تھیں، تاہم سیکیورٹی اداروں نے ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیا اور ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے۔

ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلے میں دنیا کے مشہور ترین کھلاڑیوں کی بڑی تعداد ایک ہی جگہ موجود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی سیکیورٹی انتہائی اہم ہوجاتی ہے۔سامنے آنے والے پولیس ڈوزیئر سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے دوران سیکیورٹی اداروں کو صرف میدان کے اندر ہونے والے کھیل پر ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو لاحق ممکنہ خطرات پر بھی مسلسل نظر رکھنا پڑی۔