حکومت کا ٹیکس ریلیف کا حجم ارکان سے شیئر کرنے سے انکار
حکومت نے ٹیکس ریلیف کا حجم قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ کیساتھ شیئر کرنے سے انکار کر دیا۔نئے بجٹ کی منظوری دینے والی کمیٹی چیئرمین کے مطابق ٹیکس ریلیف کا حجم360 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ایم این اے جاوید حنیف خان کے سوال پر سیکرٹری خزانہ امداد بوسال نے کہا کہ چونکہ حکومت آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات میں ہے، اس لئے حجم افشا نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ اس ریلیف کی تلافی اضافی ریونیو اور انفورسمنٹ اقدامات سے کی جائیگی، حکومت نے نجی طور پر ریلیف کا حجم چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کیساتھ شیئر کیا ہے۔
جاوید حنیف خان کے استفسار پر نوید قمر نے کہا کہ ریلیف کا حجم360 ارب روپے کی قریب ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق حکومت نے360 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا، اس میں 115 ارب پراپرٹی سیکٹر ،52 ارب روپے تنخواہ دار طبقے کیلئے ہے۔وزیر خزانہ کابینہ کو پراپرٹی سیکٹر پر وودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی کا 115 ارب روپے، ایئر ٹکٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا24 ارب، کریڈٹ کارڈز پر وود ہولڈنگ ٹیکس ریٹ میں 0.5 فیصد کمی کے17 ارب روپے کے مالی اثرات سے مطلع کر چکے ہیں۔رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے ریلیف ارکان پارلیمنٹ سے شیئر نہ کرنے کو غیر پیشہ وارانہ قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے بات چیت میں پراپرٹی کی خریدوخروف پر ٹیکس ریٹ نصف کرنے پر عدم اطمینان کااظہار کیا ہے۔
Leave A Comment