تازہ ترین

ملک میں ایک بار پھر نئی آئینی ترمیم سے متعلق وہی چہ مگوئیاں ہو رہیں جیسی26 ویں اور 27 ویں ترمیم سے قبل ہوئیں سیاسی سرگوشیوں کے باوجود ماضی کی طرح سرکاری سطح پر انکار جاری ہے۔تاہم آئینی تبدیلیوں کا ایک اور رائونڈ  سیاسی مباحثے میں شامل ہو چکا،جس کا بنیادی نکتہ وفاق اور صوبوں کے مابین مالیاتی عدم توازن ہے۔ سود کی ادائیگی اور دفاع سمیت وفاقی اخراجات میں مسلسل اضافہ مالیاتی گنجائش اور مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق سوالات ایک بار پھر اٹھا رہا ہے۔تواتر سے جاری اس بحث کا تعلق آئینی اقدام سے زیادہ وفاقی مالیاتی ڈھانچہ میں چھپی رکاوٹوں سے ہے جس میں صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ جبکہ وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔رابطے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 28 ترمیم پر غور اتحادیوں کی مشاورت سے ہو گا۔  بلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ  پیپلزپارٹی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، رانا ثناء اللہ نے تسلیم کیا کہ مالیاتی رکاوٹوں اور وفاق وصوبوں میں مالی بوجھ کی شیئرنگ کے حوالے سے بات چیت ہو رہی، ووٹر کی کم از کم عمر 25 سال کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

Leave A Comment

Advertisement