تازہ ترین

<p style="text-align: justify;">امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے اور یہ اتنی جلد ممکن ہے جتنا اگلے ہفتے کا آغاز ہے۔ امریکا اور اسرائیل اس وقت ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کی اب تک کی سب سے شدید تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ حملے آئندہ ہفتے ہی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔<span class="story-text" style="height: auto !important;"> مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکا مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔</span><span class="story-text" style="height: auto !important;"><span class="story-text" style="height: auto !important;">جن میں ایران کے فوجی اور بنیادی ڈھانچے پر وسیع بمباری، خلیج فارس میں واقع ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضے اور ایرانی سرزمین پر کمانڈوز اتار کر ملبے تلے دبے جوہری مواد کو قبضے میں لینا شامل ہے۔<span class="story-text" style="height: auto !important;"><span class="story-text" style="height: auto !important;"><span class="story-text" style="height: auto !important;">البتہ امریکی حکام کے بقول ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو حاصل کرنے کے لیے خصوصی کمانڈو آپریشن انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔</span></span></span></span></span><span class="story-text" style="height: auto !important;"><span class="story-text" style="height: auto !important;">اس مقصد کے لیے ہزاروں فوجیوں کی مدد، علاقے کا مکمل محاصرہ اور ایرانی زمینی افواج کے ساتھ براہِ راست جھڑپوں کا امکان موجود ہوگا۔</span></span><span class="story-text" style="height: auto !important;"></span></p> <p style="text-align: justify;">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم ملبے تلے دب جانے کا خدشہ ہے جو تقریباً 10 جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔</p>

Leave A Comment