تازہ ترین

<p>ایران نے کہا ہے کہ وہ مکمل دفاعی تیاری کی حالت میں ہے تاہم اس کی توجہ اب بھی &rsquo;&rsquo;پائیدار امن اور&nbsp; مفادات پر مبنی سفارت کاری&lsquo;&lsquo;پر مرکوز ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایران &rsquo;&rsquo;انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے&lsquo;&lsquo;لیکن اس کے باوجود مذاکراتی حل کی راہ کھلی ہوئی ہے۔ہم نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے خلاف 40 دن تک مزاحمت کی اور اب بھی دفاعی تیاری کے ساتھ مذاکراتی تصفیے کے منتظر ہیں۔ ایران کی بنیادی ترجیح خطے میں دیرپا امن کا قیام ہے، جبکہ سفارتی معاملات میں عزت، حکمت اور مصلحت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔</p>

Leave A Comment