روس نے ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش کردی
<p style="text-align: justify;">روس نے ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی پیشکش کردی اور کہا ہے کہ 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف نے کہا ہے کہ روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے، یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے۔<br />الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے۔</p> <p style="text-align: justify;"> امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔</p>
Leave A Comment