تازہ ترین

امریکا ایران جنگ سے جہاں پیٹرولیم کمپنیوں کی چاندی ہوگئی لیکن بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے جہاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی ہے وہیں دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔بڑھتی ہوئی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہیں کیونکہ چند ماہ بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی عوامی ناراضی کا سبب بن رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں تیل کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں آزاد منڈی کا حامی ہوں لیکن تیل کمپنیاں موجودہ صورت حال میں ضرورت سے زیادہ پیسہ بنا رہی ہیں اور میں اس پر خوش نہیں ہوں۔

امریکا ایران جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کی بڑی توانائی کمپنیوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے دوسری سہ ماہی میں 33.4 ارب ڈالر منافع حاصل کرنے کا اعلان کیا جو گزشتہ سال اسی مدت کے 25.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح امریکی کمپنی ایکسون موبل نے بتایا کہ اس کا سہ ماہی منافع بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔دوسری بڑی امریکی کمپنی شیورون نے 12.1 ارب ڈالر منافع کمایا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا سے زائد ہے۔

برطانوی توانائی کمپنی شیل نے بھی تقریباً 10 ارب ڈالر کا سہ ماہی منافع رپورٹ کیا جو کمپنی کی تاریخ کے دوسرے بڑے سہ ماہی منافع میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement