تازہ ترین

امریکا کے ایوان نمائندگان نے بڑھتی ایران جنگ کے دوران ایک اعشاریہ ایک پانچ ٹریلین ڈالر مالیت کا غیرمعمولی دفاعی بجٹ منظور کرلیا۔بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور کیا گیا اور اس میں اسرائیل سے دفاعی تعلقات مضبوط کرنے کی وہ شق بھی شامل ہے جس پر کئی اراکین کانگریس نے پہلے سخت تنقید کی تھی۔بل کی زیادہ تر ری پبلکنز نے حمایت کی اور 6 ڈیموکریٹس نے بھی حمایت میں ووٹ دیا۔

اسرائیل سے دفاعی تعلقات بڑھانے سے متعلق شق کے تحت وزیر جنگ اب پنٹاگون کے ایگزیکٹیو ایجنٹ کو نامزد کریں گے تاکہ وہ رابطہ کاری کرے اور دو طرفہ دفاعی تحقیق، جانچ اور صنعتی تعاون میں تیزی لائے۔رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹز کا کہنا تھا کہ یہ شق امریکی خودمختاری اور جمہوریت کے لیے وجودی خطرہ ہے جبکہ کانگریس مین تھامس میسی کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنی فوج ٹیکنالوجی اور سپلائی چین اسرائیل سے ضم نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیکشن 219 سینیٹ میں مسترد کردیا جائے گا کیونکہ یہ امریکی خودمختاری سے غداری کے مترادف ہے۔ڈیموکریٹس نے غیرمعمولی دفاعی بجٹ پر بحث کے دوران ایران جنگ پر بھی شدید تنقید کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ پر ابتک 37 اعشاریہ 5 ارب ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں تاہم ری پبلکنز کا کہنا تھا کہ ایک کھرب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ بل اس لیے بھی منظور کرنا ضروری ہے کیونکہ فوج ایران کیخلاف جنگ میں مصروف ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement