امریکی وزیر دفاع کا اپنی فوج پر ایک اور وار، مزید 7 اعلیٰ افسران نشانے پر
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مزید 7 اعلیٰ فوجی افسران کو نشانہ بنا لیا، جبکہ ان کے اقدامات پر اختلاف رکھنے والے امریکی آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔موجودہ اور سابق فوجی حکام کے مطابق، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، حالیہ دنوں میں ہیگسیتھ نے 7 ایسے آرمی افسران کو ہٹانے یا ان کی ترقی روکنے کا فیصلہ کیا جنہیں سینئر فوجی قیادت پر مشتمل بورڈ نے دو اسٹار جنرل کے عہدے کے لیے منتخب کیا تھا۔ ہیگسیتھ کی جانب سے افسران کو ہٹانے اور اس فیصلے کی وجوہات واضح نہ کرنے پر پینٹاگون میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ تازہ ترین طور پر آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول نے بھی ان فیصلوں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور صدر ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔فوجی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ڈرسکول نے شکایت کی کہ ہیگسیتھ نے فوج کے ان بعض انتہائی تجربہ کار اور جنگی تجربہ رکھنے والے کمانڈروں کو برطرف کیا ہے جو میدانِ جنگ میں اہم خدمات انجام دے چکے ہیں۔سینئر حکام کے مطابق ڈرسکول نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا کہ افسران کی برطرفیوں اور ترقیوں کو روکنے کے اقدامات سے فوجی اہلکاروں کے حوصلے متاثر ہوئے ہیں۔ بعض افسران اب ایسے ترقیاتی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں جو اصولاً سیاسی مداخلت سے پاک اور میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ہیگسیتھ کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں معمول کی کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور کہ ترقی کے لیے تیار کی گئی فہرستوں میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی، درست نہیں، کیونکہ ہر وزیر دفاع کو یہ اختیار حاصل رہا ہے۔تاہم سینئر حکام کا کہنا ہے کہ ہیگسیتھ کے اقدامات بے مثال ہیں۔ ماضی میں وزرائے دفاع اور فوجی سروسز کے سیکریٹریز نے اخلاقی یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر افسران کو عہدوں سے ہٹایا، لیکن حکام کے مطابق موجودہ معاملے میں متاثرہ افسران نے پینٹاگون کی پالیسیوں کے مطابق فرائض انجام دیے تھے۔
ہیگسیتھ کی برطرفیوں سے متاثر ہونے والے نصف سے زیادہ افسران سیاہ فام یا خواتین ہیں، جبکہ امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں سفید فام مرد افسران کی اکثریت ہے۔ آرمی کے دو اسٹار جنرل کے عہدے کے لیے منتخب کیے گئے 7 افسران میں سے 2 سیاہ فام اور 2 خواتین ہیں۔ ہیگسیتھ نے گزشتہ سال موسم خزاں میں ایک تقریر کے دوران اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفیوں سے متعلق اپنی پالیسی کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رکاوٹیں اور غیر ضروری معاملات ختم کرکے فوجی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے راستہ فراہم کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ہیگسیتھ کی یہ پالیسی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر برطرفیاں، ڈرسکول کی جانب سے امریکی فوج کی قیادت کے لیے کی جانے والی کوششوں سے مسلسل متصادم ہوتی رہیں۔