امریکی بحری طاقت کے علمبردار طیارہ بردار جہاز کی حالت زار موضوع بحث بن گئی
دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت سمجھے جانے والے امریکا کے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کی نئی تصاویر نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے جہاں طویل سمندری تعیناتی کے بعد جنگی جہاز کی ظاہری حالت کو شدید تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تقریباً 9 ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں رہنے کے بعد امریکی ایئرکرافٹ کیریئر بدھ کے روز تھائی لینڈ کی لیم چابانگ بندرگاہ پہنچا۔سامنے آنے والی تصاویر میں جہاز کے مختلف حصوں پر زنگ، پانی کے قریب سبز کائی، جگہ جگہ اکھڑا ہوا پینٹ اور بیرونی ساخت کی خستہ حالت واضح دکھائی دی۔یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 286 دن بعد کسی ایسی بندرگاہ پر پہنچا ہے جہاں اس کے عملے کو آرام کا موقع ملا۔ جہاز کی آمد کے بعد بندرگاہ کے مخصوص علاقے میں عام شہریوں کی رسائی بھی محدود کردی گئی۔
تصاویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے امریکی بحری طاقت پر طنز کے نشتر چلانا شروع کردیے۔ایک صارف نے لکھا کہ یہ جہاز پہلے طاقت کا خوف دلاتا تھا، اب ٹیٹنس کا خطرہ دلا رہا ہے، جبکہ ایک اور صارف نے اسے شکست خوردہ فوج کی علامت قرار دے دیا۔
تاہم ماہرین نے جہاز کی ظاہری حالت کو جنگی نقصان سے جوڑنے کی تردید کی ہے۔ ریٹائرڈ امریکی بحریہ کے افسر رابرٹ موریٹ کے مطابق طویل عرصے تک مسلسل سمندر میں رہنے والے بحری جہازوں پر زنگ لگنا اور پینٹ کا اکھڑنا غیر معمولی بات نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جہاز کی بیرونی حالت بظاہر متاثر ضرور نظر آتی ہے تاہم اس سے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جنگی صلاحیت یا آپریشنل کارکردگی متاثر ہونے کے شواہد موجود نہیں۔
یوں امریکی بحری طاقت کا یہ عظیم الشان جہاز اپنی ظاہری حالت کے باعث ضرور تنقید اور مذاق کا نشانہ بن گیا، لیکن ماہرین کے مطابق صرف زنگ اور اکھڑے ہوئے پینٹ کو دیکھ کر اسے امریکی بحری طاقت کی کمزوری قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔