ایران کے جوہری مقام پر بہت جلد شدید حملہ کریں گے: امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو امریکا کے لیے چھوٹا معاملہ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں نائب صدر جے ڈی وینس کے اُس بیان پر تبصرہ کیا جس میں وینس نے موجودہ صورتحال کو جنگ قرار دینے سے گریز کیا تھا۔ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے تاہم وہ اسے فوجی تنازع قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ امریکا کے لیے چھوٹا معاملہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس سے پہلے بھی وینزویلا سمیت دیگر محاذوں پر کارروائیاں کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ موجودہ تنازع بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ایران کے پک ایکس ماؤنٹین کو ممکنہ امریکی حملے کا ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسے بہت جلد شدید حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔تاہم انہوں نے حملے کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا وقت نہیں بتایا۔
خیال رہے کہ پک ایکس ماؤنٹین ایران کے اہم جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع ایک انتہائی مضبوط اور زیرِ زمین تنصیبات پر مشتمل مقام ہے۔اس پہاڑی کی گہرائی میں دو ٹنل کمپلیکس بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ عام جوہری تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔تجزیوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کمپلیکس کے حصے پہاڑ کے اندر انتہائی گہرائی میں موجود ہیں جس نے امریکی حملے کے ممکنہ طریقہ کار اور اس کے نتائج کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔
خیال رہے کہ پک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی ٹرمپ کی تازہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کر چکی ہیں۔