تازہ ترین

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ تہران مذاکرات کے ذریعے کسی مفاہمت تک پہنچنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی قابلِ عمل معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ ایران بات چیت کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر وہ امریکی شرائط کے مطابق کوئی پیش کش سامنے لا سکتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ایسے افراد سے رابطے جاری ہیں جو ایران میں فیصلہ سازی کی حقیقی قوت رکھتے ہیں، اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار تہران کے طرزِ عمل پر ہوگا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ ایران کی مبینہ غیر قانونی تیل کی تجارت کو محدود کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایسے تمام نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا جو ایرانی معیشت کو سہارا دینے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے جسے ’’آپریشن اکنامک فیوری‘‘ کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

 امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چین میں قائم ایک آئل ریفائنری سمیت 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں ان عناصر کے خلاف عائد کی گئی ہیں جو ایران کے ساتھ کاروباری روابط یا تیل کی ترسیل میں ملوث پائے گئے، جبکہ امریکا اس حوالے سے مزید سخت اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی سینٹ کام نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے ایرانی پرچم بردار ایک اور جہاز کو روک لیا ہے۔ بیان کے مطابق مذکورہ بحری جہاز کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے شبے میں تحویل میں لیا گیا، جو ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب رواں دواں تھا۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نگرانی کے سخت ہوتے اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement