تازہ ترین

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے اگست 2021ء میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکے کے کیس میں دہشت گرد تنظیم کی معاونت کرنے کے جرم میں افغان شہری محمد شریف اللہ کو 20 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 150 سے زائد افغان شہری جان بحق ہو گئے تھے۔

شریف اللہ کو رواں سال اپریل میں داعش سے وابستہ ایک گروپ کی مدد کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا، تاہم جیوری اس بات پر متفق نہیں ہو سکی تھی کہ آیا وہ اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ہے یا نہیں۔امریکی محکمہ انصاف کے جاری کردہ بیان کے مطابق 2021ء کے حملے کے دوران شریف اللہ نے ایئرپورٹ جانے والے ایک راستے پر جاسوسی کا کام کیا تھا، جہاں بعد میں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ سے دھماکہ کر دیا تھا۔تحقیقات کے مطابق شریف اللہ 2016ء سے لے کر 2025ء میں اپنی گرفتاری تک داعش کے دسیوں حملوں میں شامل رہا، جن میں خودکش حملہ آوروں کو منتقل کرنا، مواصلاتی نظام سنبھالنا اور حملوں کے لیے ریکی کرنا شامل ہے۔

شریف اللہ کو گزشتہ سال مارچ میں امریکی حکام نے اس وقت اپنی تحویل میں لیا تھا جب سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فورسز نے اسے گرفتار کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعریف بھی کی تھی۔

سزا سنائے جانے کے موقع پر جج نے محمد شریف اللہ کو ایک پکا دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی ظاہر نہیں کی اور اس کی وجہ سے نہ بھولنے والا دکھ اور تکلیف پہنچی ہے۔سماعت کے دوران حملے میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کے والدین نے بھی عدالت میں اپنے بیانات دیے اور بتایا کہ اس واقعے نے ان کے خاندانوں کو کس طرح توڑ کر رکھ دیا ہے۔

ملزم نے مقدمے کی کارروائی کے دوران اپنی صفائی میں کوئی بیان نہیں دیا۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement