تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کرنے یا نہ کرنے سے متعلق اہم فیصلے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران براہِ راست امریکا سے رابطے میں ہے اور تہران امریکا کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم صورتِ حال میں کسی بھی وقت تبدیلی آسکتی ہے۔ امریکا نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کا بھرپور تحفظ کیا ہے۔ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات ہوگی اور وہ ان سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ موجودہ صورتِ حال میں کہاں کھڑے ہیں۔نیویارک میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی ملاقات ہوگی۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ جولائی میں ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سے کوئی بحری جہاز ایران نہیں پہنچا۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منگل کو خلیجی ممالک کے 6 رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان شامل ہیں۔اس ملاقات میں ایران جنگ کے اگلے مرحلے پر بات ہونے کا امکان ہے۔ اس میں یہ بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی کوشش دوبارہ کی جائے یا فوجی کارروائی میں مزید شدت لائی جائے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں خطے میں اپنے اتحادی ممالک کی حمایت درکار ہوگی۔

ٹرمپ گزشتہ کئی روز سے یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تاہم بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ اس وقت ایسی صورتِ حال میں پہنچ گئی ہے جہاں نہ مکمل جنگ جاری ہے اور نہ امن قائم ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اگر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ٹرمپ دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایگزیوس کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ میں خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران جنگ کے حوالے سے ان کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور ان کا کیا حال ہے۔ ہم ان کے بہت محافظ رہے ہیں۔ٹرمپ نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ ایران جنگ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کریں گے یا بعد میں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق اگست کے آغاز میں بھی ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے سے گریز کیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب اور قطر نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ایران جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کی تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔اس کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف نسبتاً محدود انداز اختیار کیا۔ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطل کیے، نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی مہم شروع کی، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کی۔امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بحری ٹریفک اب بھی کم ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو سال کے اختتام تک موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا حکم دیا تاکہ ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکے۔

ایگزیوس کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ کسی نہ کسی مرحلے پر آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آخری مقصد کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے ہم نے شروع کیا ہے، ایک بھی جہاز ایران نہیں گیا۔ انہوں نے کوشش کی اور ہم نے انہیں تباہ کر دیا۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست رابطہ جاری ہے اور ایرانی حکام اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

 

Leave A Comment

Advertisement