تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور سکیورٹی کی مد میں امریکہ کو ہونے والے تمام تر اخراجات ادا کریں۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ چونکہ امریکی فوج دنیا کے ایک انتہائی امیر ترین خطے کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، اس لیے ان ممالک پر یہ واجب الادا ہے کہ وہ امریکی اخراجات کی تلافی کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے خطے کی حفاظت کر رہے ہیں جو دنیا کے امیر ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، ہم اس پر بہت زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہمیں اس سکیورٹی کے اخراجات واپس کیے جائیں کیونکہ ہم دنیا کے ایک انتہائی امیر خطے کی حفاظت کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں اس تحفظ کے بدلے ادائیگی کی جائے۔

 

 

 
 

 امریکی صدر نے براہِ راست ان ممالک کے نام بھی لیے جنہیں امریکہ عسکری اور دفاعی تحفظ فراہم کرتا رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جن کی حفاظت کے لیے امریکی افواج خطے میں سرگرم ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دوبارہ 'ایرانی ناکہ بندی' نافذ کر رہے ہیں، جسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایران کے بحری جہازوں یا ایران کے گاہکوں کو آبنائے ہرمز سے داخل ہونے یا نکلنے سے روکنا ہے، دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے منصفانہ اور بلا رکاوٹ استعمال کی اجازت ہوگی، امریکہ کو 'آبنائے ہرمز کا محافظ' کے نام سے جانا جائے گا، آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اس حیثیت میں انصاف کے تقاضوں کے تحت ہمیں اس انتہائی حساس سمندری راستے پر تحفظ اور سلامتی فراہم کرنے کے اخراجات کا کم از کم 20 فیصد معاوضہ دیا جائے گا، اس کا طریقہ کار فوری طور پر نافذ کیا جائے گا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس لیں گے، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور نئے طریقہ کار کا عمل فوری شروع کیا جائے گا۔

 

Leave A Comment

Advertisement