ایران میں حکومت کی تبدیلی کا مطلب نظام کا مکمل خاتمہ نہیں بلکہ رویے اور پالیسیوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ سے مراد لازمی طور پر حکومت کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ اس کے کردار، نوعیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی ہے۔ دیئے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ ’ممکن ہے ہم حکومت کی تبدیلی سے مراد مکمل اقتدار کا خاتمہ نہ دیکھیں، لیکن خود اس نظام کی نوعیت میں تبدیلی ضروری ہے۔‘’ایرانی حکومت کا رویہ ہمیشہ بیرونی مداخلت اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر مبنی رہا ہے۔ وہ صرف ایران پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے بلکہ پورے خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کو تبدیل ہونا ہوگا اور اسے تبدیل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے جسے وہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔‘
’حکومت کی تبدیلی‘ اور ’نظام کی مکمل تبدیلی‘ کے درمیان عملی فرق موجود ہے کیونکہ ان کے مطابق کسی مخصوص معاہدے کے برعکس کسی حکومت کے رویے کو تبدیل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کا کوئی واضح اختتامی نقطہ نہیں ہوتا۔‘جوہری معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل درآمد کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے تاہم کسی حکومت کو اپنی علاقائی حکمت عملی ترک کرنے پر مجبور کرنا ایک مسلسل عمل ہے، اس لیے اس دباؤ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔