تازہ ترین

<p style="text-align: justify;">رحیم یار خان(أن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹروک پروگرام کے تحت شیخ زاید میڈیکل کالج و ہسپتال رحیم یار خان میں فالج کے مریضوں کے لیے جدید Mechanical Thrombectomy کی سہولت شروع کی جا رہی ہے۔ یہ مرکز پنجاب میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا سٹروک سینٹر ہوگا، جہاں فالج کے مریضوں کو جدید طریقہ علاج میسر آئے گا۔ اس سہولت سے رحیم یار خان سمیت سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں کے ہزاروں مریض بروقت اور جدید علاج سے مستفید ہو سکیں گے۔</p> <p style="text-align: justify;"><br />سی ایم پنجاب سٹروک پروگرام کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر قاسم بشیر نے نیورو انٹروینشنسٹ ڈاکٹر جازب کے ہمراہ شیخ زاید میڈیکل کالج و ہسپتال رحیم یار خان کے سٹروک سینٹر کا دورہ کیا اور مرکز میں جاری تیاریوں، طبی سہولیات، آلات اور مریضوں کو فراہم کیے جانے والے علاج کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے سٹروک پروگرام کے تحت فالج کے مریضوں کو جدید اور بروقت علاج کی سہولت&nbsp; فراہم کرنا اہم ترجیح ہے۔ پہلے فالج کے مریضوں کے لیے ساڑھے چار گھنٹے کی ونڈو میں TNK انجیکشن کے ذریعے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اب دماغ کی خون کی نالی میں موجود clot کو جدید طریقہ کار کے ذریعے نکالنے کی سہولت بھی شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان میں دستیاب ہونے جا رہی ہے۔ منتخب مریضوں میں یہ علاج آٹھ گھنٹے تک جبکہ مخصوص کیسز میں 24 گھنٹے تک بھی ممکن ہو سکتا ہے۔</p> <p style="text-align: justify;"><br />پرنسپل شیخ زاید میڈیکل کالج و ہسپتال رحیم یار خان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم لغاری نے کہا کہ پنجاب حکومت اور محکمہ صحت کا یہ ایک انتہائی اہم اقدام ہے۔ شیخ زاید ہسپتال میں رحیم یار خان کے علاوہ دریائے سندھ کے پار کے علاقوں سمیت سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں کے مریض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید سٹروک سینٹر کا قیام پورے خطے کے لیے جدید طبی علاج کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں یہ دوسرا سینٹر قائم ہونے جا رہا ہے اس کے&nbsp; لئے گورنمنٹ آف پنجاب اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مشکور ہیں پروفیسر ڈاکٹر وزیر علی خان، ہیڈ آف نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فالج کے مریض کے علاج میں وقت انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔یہ سہولت دستیاب ہونے سے ایسے مریضوں کو بروقت جدید علاج فراہم کیا جا سکے گا جن میں دماغ کی بڑی خون کی نالی میں clot موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ مریض کی فوری تشخیص، CT Scan اور دیگر ضروری investigations کے بعد Stroke Team فیصلہ کرے گی کہ مریض اس procedure کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔</p> <p style="text-align: justify;"><br />میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زاید ہسپتال ڈاکٹر عامر محمود بخاری نے کہا کہ سٹروک سینٹر کو فعال بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان مربوط نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی سے لے کر تشخیص، نیورو انٹروینشن اور بعد از علاج نگہداشت تک مریض کو ایک جامع اور بروقت طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>

Leave A Comment