تازہ ترین

<p style="text-align: justify;">رحیم یار خان (أن لائن) پاکستان ٹیلی ویژن کے صدراتی ایوارڈ یافتہ سینئر لیجنڈ اداکار اورنگ زیب لغاری&nbsp; نے کہا ہے کہ ماضی کے ڈراموں میں معاشرتی اقدار، خاندانی نظام اور مثبت پیغام کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، مگر آج کے ڈراموں میں اخلاقی معیار میں واضح تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد ایاز خاں لغاری اور امریکی نیشنلٹی ہولڈر عبدالماجد خاں لغاری کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب (رجسٹرڈ) رحیم یار خان میں میٹ دی پریس&ldquo; سے خطاب کرتے ہوے کیا۔ اورنگزیب خاں لغاری نے بتایا کہ&nbsp; 1963-64 میں زمانہ طالب علمی کے دوران اسٹیج ڈراموں سے اداکاری کا آغاز کیا، جس کے بعد ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ''ایک محبت سو افسانے''، ''سونا چاندی''، ''اندھیرا اجالا''، ''وارث''، ''دہلیز'' اور ''وقت'' جیسے شہرہ آفاق ڈراموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق ضلع رحیم یار خان کے علاقے رحیم آباد سے ہے اور فن کے شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی زمین تک فروخت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کی جانب سے ان کی اداکاری کی تحریری تعریف ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھی، جس نے ان کے حوصلے کو مزید تقویت دی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فنکاروں کو وہ مقام اور سہولیات نہیں ملتیں جن کے وہ حق دار ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اپنی پوری زندگی فن اور معاشرے کی خدمت میں صرف کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ ''دہلیز'' میں ان کے کردار کو بے حد پذیرائی ملی اور انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ موجودہ ڈرامہ اور اسٹیج بے حیائی اور غیر معیاری مزاح کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو ہماری تہذیبی و اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹ کونسلز اور ثقافتی ادارے زوال کا شکار ہیں اور وہاں حقیقی فنکاروں کے بجائے غیر معیاری عناصر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں، فنڈز کی تقسیم میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے&nbsp; ''اگر فن کو مثبت سمت نہ دی گئی تو ہماری آنے والی نسلیں اپنی ثقافتی شناخت سے محروم ہو جائیں گی۔ ہمیں ایسے ڈرامے تخلیق کرنے ہوں گے جو نہ صرف تفریح فراہم کریں بلکہ معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی بنیں۔</p>

Leave A Comment