تازہ ترین

ورنر فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے عوام کو اہم پیغام دے دیا۔  فیصل کریم کنڈی نے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں، ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، کرپشن پر ہماری زیر وٹالرنس پالیسی ہے، ایسا نہیں ہوگا کہ کمیٹیاں بنائیں اور دو ماہ بعد بھول جائیں، وفاق اور عوام نے اس لیے اعتماد کیا ہے ہم ڈیلیور کریں، ہماری پہلی ترجیح امن و امان کا قیام اور دہشتگردی کا خاتمہ ہے۔ گورنر کے پی نے شرکا سے کہا کہ سب سے پہلے امن ہے، اس کے بعد ترقی اور باقی چیزیں ہیں، کسی صوبے کے اچھے اقدام کو ہم بھی فالو کر سکتے ہیں، ہم نے ایسے اقدامات بھی کرنے ہیں کہ باقی صوبے ہمیں فالو کریں، خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، صوبے میں سب سے زیادہ گیس کی پیدوار ہوتی ہے اور پانی بھی موجود ہے، میری پوری سپورٹ ایڈوائزری کونسل کے ساتھ ہے، 24 گھنٹے آپ کی خدمت کیلیے موجود ہوں، اپنے اقدامات سے یہ پیغام دیں گے کہ ہم پر اعتماد کیا گیا ہے ہم اس پر پورا اتریں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آج میں کے پی کے عوام سے مخاطب ہوں، صوبے میں غیر معمولی صورتحال کے پیشِ نظر آئینی اقدامات کیے گئے ہیں، سیاسی بحث یا الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا میرا پیغام صرف ایک ہے کہ صوبے کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ کے پی کے عوام کو امن کا حق دیا جائے، ہماری جنگ اس سوچ اور نیٹ ورک کے خلاف جس سے دہشتگردی کو سہولت ملتی ہے، ہماری جنگ ان کے خلاف جس سے حکومت کی رٹ کم ہوتی ہے، ریاست کا عزم ہے کہ صوبے کے عوام کو دہشتگردوں سے نجات دلائی جائے گی، میری اولین ترجیح امن اور عوام کا تحفظ ہوگا۔

 ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف مربوط کارروائی کی جائے گی، پولیس کو جدید وسائل کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی، ہم چاہتے ہیں کہ کے پی کے پولیس اہلکار کے پیچھے ریاست کھڑی ہو، دہشتگردی سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں ریاست کی رٹ کو مضبوط بنائیں گے، کوشش ہوگی کہ دہشتگردی کا خاتمہ کر کے متاثرہ اضلاع کو سہولتیں دی جائیں، عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہمارا مقصد ہے، ریاست شہری کیلیے ہے شہری ریاست کیلیے نہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہماری آخری ترجیح دہشتگردی کے ایکو سسٹم کا خاتمہ ہوگی۔ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور منسلک گٹھ جوڑ کو قانون کے مطابق ختم کرنا ہوگا۔ قومی ایکشن پلان اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر مؤثر عملدرآمد ہماری ترجیح ہوگی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم، کتاب اور امید دیں۔ عوام کو یقین دلاتا کہ ہوں غیر معمولی اقدامات کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا فرد کو نشانہ بنانا نہیں، ریاست کا مقصد ایک ہی ہے کہ صوبے میں قانون کی حکمرانی اور عوام کو سہولتیں دینا ہے۔

 

 

 فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ جو شخص قانون کے دائرے میں رہے گا اس کو تمام سہولتیں میسر آئیں گی، شہریوں سے درخواست ہے کہ دہشتگردی یا سہولت کاری کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، مشکلات بڑی ہیں لیکن ہمارا عزم اس سے بھی بڑا ہے، انشا اللہ کے پی میں امن واپس آئے گا اور ریاستی رٹ مضبوط ہوگی، صوبے میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دیں گے، دہشتگردی کے خلاف پولیس کے ساتھ سی ٹی ڈی کو مضبوط کیا جائے گا، ہم عوام کو بااختیار بنانے کیلیے کام کرتے رہیں گے۔

 

Leave A Comment

Advertisement