تازہ ترین

<p class="MsoNormal" style="margin-bottom: 12.0pt; text-align: right; line-height: normal; background: white;" align="right"><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-size: 18.0pt; font-family: 'Times New Roman','serif'; mso-ascii-font-family: Nafees-Web-Naskh; mso-fareast-font-family: 'Times New Roman'; mso-hansi-font-family: Nafees-Web-Naskh; color: #2f2d2d;">دبئی:پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا ایشیا کپ کے دوران بھارت کے برے رویے سے نالاں۔میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا بھارت کا رویہ <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>افسوسناک رہا۔اس <span style="mso-spacerun: yes;">&nbsp;</span>نے اپنے عمل سے کرکٹ سے پیارکرنے والوں کومایوس کیا۔سلمان علی آغا نے کہا انہوں نے ہاتھ نہ ملاکرصرف ہماری توہین نہیں کی بلکہ کرکٹ جیسے نوبل کھیل کی توہین کی۔آج کل کے دور میں اچھی ٹیمیں توایسے خراب رویے کا مظاہرہ نہیں کرتیں</span></p> <p class="MsoNormal" style="margin-bottom: 12.0pt; line-height: normal; background: white;"><span dir="RTL" lang="AR-SA" style="font-size: 18.0pt; font-family: 'Times New Roman','serif'; mso-ascii-font-family: Nafees-Web-Naskh; mso-fareast-font-family: 'Times New Roman'; mso-hansi-font-family: Nafees-Web-Naskh; color: #2f2d2d;">ہمیں اپنی روایات اورذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہے،اسی لیے ہم نے خود سے ٹرافی کے ساتھ روایتی فوٹوسیشن کیا۔سلمان علی آغا نے کہا میں اس موقع پرکوئی تلخ الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن بھارتی رویہ بہت توہین آمیزتھا۔قومی کپتان بولے انہیں بھارتی کمارسوریا کماریادیو کے ساتھ کوئی ایشوزنہیں ہیں،اورمجھے یقین ہے کہ اگرسوریا کمارکے اختیارمیں ہوتا تومیچ سےپہلے وہ مجھ سے ہاتھ ضرورملاتے۔سلمان علی آغا نے انکشاف کیا کہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل سوریاکماریادیو نے ان سے پرائیویٹ محفل میں مصافحہ کیا لیکن دنیا اور کیمروں کے سامنے وہ بالکل مختلف انسان بن جاتے۔یقیناً وہ کسی جانب سے ملنے والی ہدایات پرعمل کررہے تھے،لیکن اگرایسا نہ ہوتا توانہیں مجھ سے مصافحہ کرنے میں کوئی عارنہ ہوتی۔سلمان علی آغا نے کہا انہیں کرکٹ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی،میرے خیال میں یہ کرکٹ کی روح کوتباہ کرنے والی چیز ہے۔سلمان علی آغا نے کہا میچ کے بعد اختتامی تقریب کا ڈیڑھ گھنٹے تک شروع نہ ہوپانا،بھارتی ٹیم کا ٹرافی وصول کرنے سے انکار،فرضی ٹرافی کے ساتھ تصویریں بنانا ظاہرکرتا ہے کہ یہ سب کسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،انکے ذہنوں میں یہ سب پہلے سے چل رہا تھا۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا انہوں نے اپنی زندگی میں یہ پہلی باردیکھا ہے،ایشیا کپ کے دوران بہت کچھ برا ہوا،امید ہے اس سلسلے کویہیں ختم کردیا جائے گا۔سلمان علی آغا نےکہالوگ کھلاڑیوں کورول ماڈل کے طورپردیکھتے ہیں،اگرایک بچہ ،جو بڑا ہوکرکرکٹربننا چاہتا ہے،یہ سب دیکھے گا تواسکے ذہن میں پاکستان اوربھارت کے کھلاڑیوں کا کیا امیج بنے گا،یہ سوچنے کی بات ہے۔ہم انہیں اچھا پیغام نہیں دے رہے۔سلمان علی آغا نے کہا اس سب کا ذمہ دار میں یامیری ٹیم نہیں،اسکے ذمہ داربھارتی ہیں،لوگوں کوان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں</span></p>

Leave A Comment