تازہ ترین

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران کی عسکری قیادت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب صرف جوابی کارروائی تک محدود رہنے کی پالیسی ختم کی جا رہی ہے اور آئندہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف مسلسل حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ایرانی مشترکہ فوجی کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اب خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کے لیے مستقل نوعیت کی کارروائیوں کی طرف جا رہا ہے، ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی، اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو خلیج کے اہم ترین سمندری راستے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے، ایسے حالات میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ایران کی حکمت عملی میں امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے بحری جہازوں کو بھی ہدف بنانے کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ایرانی جنرل محمد فدوی نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی دنوں سے عالمی سطح پر جنگ بندی کے اعلان کے لیے کوشاں ہیں، اگر دشمن نے حقیقی معنوں میں جنگ میں کامیابی حاصل کر لی ہوتی تو پھر وہ عالمی ثالثی کے لیے کسی فورم یا اجتماع کی ضرورت محسوس نہ کرتے۔

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل ایرانی بندرگاہوں پر کسی بھی قسم کا حملہ کریں گے تو اس کا ردعمل صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ علاقائی ممالک کی بندرگاہیں بھی ہدف بنیں گی، اس بحران میں کوئی ملک خود کو غیرجانبدار یا محفوظ نہیں سمجھ سکتا اور ہر ملک کو ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کینٹکی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ گیارہ دنوں کے دوران امریکی افواج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، امریکی کارروائیوں میں ایرانی بحریہ کو سمندر میں مؤثر طور پر ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ فضائی قوت کو بھی بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے، حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے 58 بحری جہاز تباہ کیے گئے اور سمندر میں بچھائی گئی 31 بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ امریکا اس تنازع میں عملی طور پر فتح حاصل کر چکا ہے اور یہ جنگ ابتدائی گھنٹوں میں ہی امریکی افواج کے حق میں ہو گئی تھی، امریکی فوج فوری طور پر خطے سے انخلا نہیں کرے گی، جب تک امریکا اپنے تمام تزویراتی اہداف حاصل نہیں کر لیتا، اس وقت تک ایران کے حوالے سے جاری فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے ابتدائی 6 دنوں میں امریکا کو کم از کم 11.3 ارب ڈالر کے اخراجات اٹھانے پڑے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ رقم جنگ کے مکمل مالی بوجھ کی نمائندگی نہیں کرتی، کانگریس کے ارکان نے اس ضمن میں تنازع کے تفصیلی جائزے اور مکمل مالی تخمینہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پالیسی ساز اور قانون ساز موجودہ صورتحال اور مستقبل کے اخراجات کا درست ادراک حاصل کر سکیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلی عوام کے لیے سب سے بڑی مصیبت بن چکے ہیں، اسرائیلی شہری اپنی راتیں خوف کے عالم میں پناہ گاہوں میں گزار رہے ہیں اور اسرائیل کے اندر بھی اب یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ نیتن یاہو خود ایک سنگین بحران کی علامت ہیں، ترکی کی کوششیں اس وقت تناؤ کم کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے پر مرکوز ہیں، جنگ کو بڑھنے سے پہلے روکا جانا ضروری ہے تاکہ پورے خطے میں آگ نہ پھیلے اور اس مقصد کے لیے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں کینیڈا کا موقف واضح ہے، کینیڈا اس تنازع میں کبھی بھی براہ راست حصہ نہیں لے گا، کینیڈا ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ایرانی جوہری پروگرام کی پیش رفت کو محدود کریں اور دہشت گردی کے بین الاقوامی پھیلاؤ کو روکیں، جی سیون ممالک اس بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

Leave A Comment

Advertisement