جنگ بندی کی امریکی تجویز مسترد، ایران نے 5 شرائط رکھ دیں
ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پانچ شرائط سامنے رکھ دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ جنگ صرف تہران کی شرائط پر ہی ختم ہوگی۔ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران امریکا کی ڈکٹیٹشن قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی شرائط پوری ہونے تک جنگ اور دشمن پر حملے جاری رکھے گا۔ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں کیں مگر ایران کے نزدیک یہ تجاویز حقیقت سے کوسوں دور تھیں۔ایران نے امریکی کی حالیہ پیشکش کو چال قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ امریکا نے گزشتہ ادوار میں بھی مذاکراتی عمل کے دوران دھوکہ دیا اور ایران پر حملے کیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے جنگ بندی پر رضامندی کے لیے پانچ شرائط رکھ دی ہیں۔ جس میں ایران کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور حملوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ دوسری شرط جنگ دوبارہ مسلط نہ ہونے کے لیے عملی اقدامات اور ٹھوس یقین دہانی ہے۔ایران نے اپنی شرائط میں جنگ کے دوران نقصانات کی تلافی کا مطالبہ بھی شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایران کے علاوہ خطے میں شامل تمام محاذوں اور مزاحمتی گروپوں کے لیے جنگ کا مکمل اختتام کیا جائے گا۔ایران نے جنگ بندی کے لیے آخری شرط یہ رکھی ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے حقِ حکمرانی اور مکمل خودمختاری کی بین الاقوامی سطح پر ضمانت دی جائے گی۔یہ وہ تمام شرائط ہیں جو جنیوا مذاکرات میں ایران کی پیش کردہ شرائط کے اضافی ہیں، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی نئی جارحیت سے پہلے طے کی گئی تھیں۔ ایران نے تمام ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ جنگ کا اختتام ٹرمپ کی خواہش نہیں بلکہ ایران کی شرائط پر ہوگا۔ شرائط پوری نہ ہونے تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور ایران دفاعی اقدامات جاری رکھے گا۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجویز ایران تک پہنچا دی ہے۔ایرانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تاہم امریکی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا یہ وہی 15 نکاتی امریکی منصوبہ ہے جس کی خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آ چکی ہیں۔ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششوں میں ترکیہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی میزبانی پر غور کیا جارہا ہے۔ترکیہ کی حکمران جماعت کے سینئر رہنما ہارون ارمغان نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی اس ہفتے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔
Leave A Comment