ایران نے بحری جہازوں پر قبضہ کر کے آبنائے ہرمز کا مالک ہونے کے دعوے پر مہر لگا دی
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جہاں حالیہ دنوں میں جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور حملوں نے صورتِ حال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ایران نے 22 اپریل کو 2 غیر ملکی کنٹینر جہازوں کو قبضے میں لے لیا تھا جبکہ ایک اور جہاز پر فائرنگ کی گئی تھی، اس سے قبل امریکا نے بھی ایک ایرانی جہاز کو روک کر قبضے میں لیا تھا جسے ایران نے ’سمندری قزاقی‘ قرار دیا تھا۔ آبنائے ہرمز اب عملی طور پر دونوں ممالک کے کنٹرول میں آ چکی ہے مگر ایران اس پر مؤثر انداز میں قابض ہے، ایران نے مارچ کے آغاز میں اس گزرگاہ پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف اس کی اجازت سے ہی آبنائے ہرمز سے جہاز گزر سکتے ہیں۔ابتدائی طور پر ایران نے صرف ’دشمن ممالک‘ کے جہازوں پر پابندی لگائی تھی تاہم امریکا کی جانب سے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے بعد ایران نے تمام غیر ملکی جہازوں پر سختی بڑھا دی ہے۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک 31 ایرانی یا ایران سے منسلک جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک اس کی تیل برآمدات پر پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حرکت ممکن نہیں۔
ماہرین کی رائے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ صورتِ حال ’جوابی کارروائی‘ کا سلسلہ بن چکی ہے جس میں ہر قدم مزید تصادم کا خطرہ بڑھا رہا ہے، کسی بھی وقت یہ کشیدگی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔حالیہ تنازع کے باوجود ایران کی تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ 1 ماہ میں اسے تقریباً 4.97 ارب ڈالرز آمدن حاصل ہوئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ موجودہ صورتِ حال ایک ’خطرناک کھیل‘ کی مانند ہے جہاں دونوں فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور یہی طرزِ عمل عالمی امن اور معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔