تازہ ترین

  ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کے پہلے نو دنوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرے ابتدا میں تہران کے بازار سے شروع ہوئے، جہاں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی اور مہنگائی نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔احتجاج اب مغربی اور جنوبی ایران کے متعدد شہروں تک پھیل چکا ہے، تاہم اس کی شدت 2022-23 کے اس ملک گیر احتجاج جتنی نہیں، جو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد بھڑکا تھا۔ اس کے باوجود، حالیہ مظاہرے تیزی سے محض معاشی مطالبات سے آگے بڑھتے ہوئے حکومتی اور مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بازی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

کرد ایرانی حقوق تنظیم ہینگاو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار افراد 18 سال سے کم عمر ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب  انسانی حقوق کے کارکنوں کے نیٹ ورک HRANA کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 29 ہو چکی ہے، جن میں دو قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ گرفتار افراد کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے۔

ایرانی حکام نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی، تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ایران اس وقت بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو امریکا ان کی مدد کرے گا۔ اس بیان کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران “دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا۔”

معاشی بحران کے تناظر میں ایرانی حکومت نے سبسڈی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان کے لیے ترجیحی زرِ مبادلہ ختم کر کے براہِ راست عوام کو نقد منتقلی کی جائے گی تاکہ ضروری اشیاء کی خریداری میں مدد مل سکے۔ یہ اقدام 10 جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔اس کے علاوہ 29 دسمبر کو مرکزی بینک کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم ان اقدامات کے باوجود ایرانی ریال کی گراوٹ جاری ہے۔ منگل کے روز ڈالر کے مقابلے میں ریال 14 لاکھ 89 ہزار 500 تک گر گیا، جو احتجاج کے آغاز سے اب تک تقریباً 4 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی مسلسل گراوٹ عوامی غصے کو مزید بھڑکا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح اور فوری ریلیف سامنے نہیں آ سکا۔

Leave A Comment

Advertisement