جلالپور پیر والا اور علی پور میں امدادی کشتیاں الٹ گئیں، بہاولنگر میں بچہ جاں بحق
<p>ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں سیلاب متاثرین کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی۔الٹنے والی کشتی میں 19 افراد سوار تھے جن میں سے 18 کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ ایک شخص کی تلاش اب بھی جاری ہے۔یہ حادثہ اوباڑو کے قریب جنوبی قائد ملت سکول کے پاس پیش آیا، حادثے کا شکار کشتی سیلاب متاثرین کو موضع دراب پور سے ریسکیو کر رہی تھی۔</p> <p style="text-align: justify;"> مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، اسی دوران ایک شخص نے کشتی میں لٹکنے کی کوشش کی جس سے کشتی توازن کھو بیٹھی اور الٹ گئی، خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔</p> <p style="text-align: justify;"> بہاولنگر کی بستی کلر والی کے مقام پر دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔</p> <p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;"><span style="font-size: xx-large;">لیاقت پور نوروالا میں سیلاب سے تباہی</span></span></p> <p style="text-align: justify;"> رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پور نوروالا میں سیلاب نے تباہی مچا دی۔لیاقت پور نوروالا میں کئی دہائیوں سے خشک دریائی علاقے میں دریائے چناب واپس آیا تو افراتفری مچ گئی، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر مکینوں کا انخلا کیا گیا۔علاقے میں ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے، اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، مال مویشی اور مالی نقصان سے بچانا ہے۔</p> <h5 style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;"><span style="font-size: xx-large;">ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب</span></span></h5> <p style="text-align: justify;">دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اور یہاں پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔صوبہ پنجاب میں فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے جو سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p> <p style="text-align: justify;">واضح رہے کہ اس مقام پر گزشتہ تین روز سے پانی کے اخراج میں کمی آ رہی تھی جو مگر گزشتہ رات سے پانی کی سطح پھر سے بلند ہورہی ہے۔</p> <p style="text-align: justify;">اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر بھی سمکہ چاچڑاں کی جانب 2 لاکھ کیوسک کے قریب سیلابی ریلا بڑھ رہا تھا۔</p> <p style="text-align: justify;">پنجاب کے بڑے دریا چناب میں تریموں بیراج کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں گزشتہ تین روز کے دوران پانی کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے، اس وقت تازہ ترین صورتحال میں ہیڈ پنجند کی جانب ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے کُچھ زیادہ کا ایک ریلا سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔تاہم دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں پانی کی سطح اس وقت ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔</p> <p style="text-align: justify;">واضح رہے کہ گزشتہ تین روز سے مسلسل بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔</p> <p style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;"><span style="font-size: xx-large;">زرعی نقصانات</span></span></p> <p style="text-align: justify;"> پنجاب میں سیلاب سے زرعی معیشت کو شدید جھٹکا، 21 لاکھ 25 ہزار 838 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوگیا۔کپاس کی 1 لاکھ 10 ہزار 850 ایکڑ فصل پانی میں بہہ گئی، چاول کی 9 لاکھ 70 ہزار 929 ایکڑ فصل زیرِ آب آگئی، مکئی کی 1 لاکھ 86 ہزار 419 ایکڑ فصل برباد ہوگئی۔گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار 344 ایکڑ فصل سیلاب سے تباہ ہوئی، سیلاب سے 4 لاکھ 500 ایکڑ پر چارے کی فصل کو بھی نقصان پہنچا، سبزیوں کی 1 لاکھ 15 ہزار 260 ایکڑ فصل برباد ہوئی۔</p> <p> </p>
Leave A Comment