تازہ ترین

بنگلا دیش کی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل شیخ عبدالحنان کو کرپشن کے الزامات پر قطر میں گرفتار کر لیا گیا۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق فضائی سربراہ پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کروڑوں ٹکے کی مشکوک مالی لین دین میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بھی مقدمے میں ملزمہ ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) نے جولائی 2025 میں شیخ عبدالحنان اور ان کی اہلیہ کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر دو مقدمات درج کیے تھے۔انسداد بدعنوانی کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اختر الاسلام نے کہا کہ قطری حکام نے شیخ عبدالحنان کو 15 اکتوبر کو حراست میں لیا تھا اور انٹرپول نے ای میل کے ذریعے کمیشن کو گرفتاری سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔کمیشن کی تحقیقات کے مطابق شیخ عبدالحنان پر الزام ہے کہ انہوں نے آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد 3 کروڑ 28 لاکھ ٹکے سے زیادہ مالیت کے اثاثے بنائے۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی نام پر موجود 6 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے 27 کروڑ 63 لاکھ ٹکے کی مشکوک مالی لین دین کا بھی انکشاف ہوا ہے۔کمیشن نے تحقیقات کی بنیاد پر گزشتہ سال جولائی میں ان کے خلاف انسداد بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات درج کرنے کی منظوری دی تھی۔ڈھاکہ کی ایک عدالت نے مارچ میں انسداد بدعنوانی کمیشن کی درخواستوں پر شیخ عبدالحنان اور ان کی اہلیہ کے انکم ٹیکس ریکارڈ ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل عدالت ان کے دو اپارٹمنٹس ضبط کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات بھی جاری کر چکی تھی۔خاتون کو باتوں میں الجھا کر نقدی، زیورات اور غیر ملکی کرنسی لوٹنے والا رکشہ ڈرائیور 24 گھنٹوں میں گرفتار مقدمے میں سابق فضائی سربراہ کی اہلیہ بھی نامزد ہیں۔ ان پر شوہر کی مدد سے آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد ایک کروڑ 91 لاکھ ٹکے سے زیادہ مالیت کے اثاثے بنانے کا الزام ہے، جبکہ ان کے نام پر موجود 32 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ایک کروڑ 18 لاکھ ٹکے کی مشکوک مالی لین دین کا بھی پتا چلا ہے۔

کمیشن کے مطابق شیخ عبدالحنان کو متعدد کرپشن مقدمات کا سامنا تھا اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی بھی عائد تھی، تاہم اس کے باوجود وہ بنگلا دیش سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔تحقیقاتی حکام نے سابق فضائی سربراہ کے مبینہ بیرون ملک اثاثوں کا سراغ کینیڈا اور دبئی تک لگایا ہے۔ اس کے علاوہ تین مختلف ممالک میں ان کے بچوں کے نام پر رجسٹرڈ اثاثوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

Leave A Comment

Advertisement