لاہورہا ئی کورٹ :اراضی قبضہ اور پولیس مداخلت کیس ، چیف جسٹس گوجرانوالہ پولیس پربرہم
اراضی قبضہ اور پولیس مداخلت سے متعلق کیس ، چیف جسٹس کادرخواست گزار کیخلاف مقدمہ درج کرنےپر گوجرانوالہ پولیس کےرویے پر شدید برہمی کا اظہار ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ عدالت سےرجوع کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہونا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نےشہری شرافت علی کی درخواست پرسماعت کی، آر پی اوگوجرانوالہ خرم شہزاد، سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹرغیاث گل سمیت دیگرافسران پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کا مقصد کسی کو بلاوجہ سزادینانہیں بلکہ قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔
درخواستگزار شرافت علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ لیز ہولڈر اورعدالتی حکم امتناعی کےباوجود پولیس معاملے میں مداخلت کر رہی ہے۔ درخواستگزارنے بتایا کہ ہائیکورٹ سے حکم جاری ہونے کے بعد پولیس نے درخواستگزارکیخلاف ایف آئی آر درج کر لی۔
چیف جسٹس نےسی پی او سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کب جاری ہوااورمقدمہ کب درج کیاگیا؟ جس پر سی پی او نے بتایا کہ عدالتی حکم 17جون اورایف آئی آر18جون کودرج کی گئی۔چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقدمہ درج کرنا تھا توعدالتی حکم سے پہلے کیوں نہیں کیاگیا؟ ایسے حالات میں آئی جی عبدالکریم کوبھی طلب کیاجا سکتا ہے۔
سی پی او نےمؤقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او کو عدالتی حکم کا علم نہیں تھا، تاہم چیف جسٹس نے قراردیا کہ تحفظ مانگنے والےشخص کیخلاف مقدمہ درج کردینا ناقابل قبول ہے۔عدالت نے سی پی او گوجرانوالہ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کا ازسرنو جائزہ لیں، فریقین کوطلب کریں اور میرٹ پر فیصلہ کریں۔ عدالت نے سی پی اوکوانکوائری رپورٹ سمیت طلب کرتے ہوئےسماعت6 جولائی تک ملتوی کردی۔