کہیں اور فیصلے کرکے پارلیمنٹ پر مسلط نہ کیے جائیں، متنازع بیان دینے کا شوق نہیں، اصلاح کی نیت سے تنقید کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انہیں متنازع بیان دینے کا کوئی شوق نہیں، وہ اصلاح کی نیت سے تنقید کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں۔ وہ جے یو آئی کے مرکزی رہنما بلال میر کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کرنے کے لیے لاہور میں موجود تھے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان سے سوال کیا گیا ہے فیصل واوڈا کے بیان کے بعد آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پنجاب یا سندھ میں بھی گورنر راج لگے گا؟ اس پر مولانا نے واضح کیا کہ ”مسئلہ بنیادی یہ نہیں ہے کہ وہاں بھی ایمرجنسی لگے گی، وہاں بھی لگے گی تو ہم وہاں بھی اختلاف رائے کریں گے۔“بنیادی بات یہ ہے کہ سپریم کون ہے؟ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے؟ تو پھر فیصلے پارلیمنٹ کرے نہ کہ کہیں اور فیصلے کرکے انہیں پارلیمنٹ پر مسلط کیا جائے۔
خود پر دہشت گردوں کے حامی ہونے کے الزامات کے سوال کے جواب پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور انہوں نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔دہشت گردی کے ماحول میں جے یو آئی کے ڈھائی سو علماء اور کارکن شہید ہوئے ہیں۔ اس طرح کے بیان دینا کسی پارٹی کی ملک اور عوام کے لیے قربانیوں کا مذاق اڑانا ہے، کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے یا اسے یہ بات جچتی ہے کہ وہ ملک کے وفادار لوگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں؟اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے ہیں، ہم ان کی پالیسیوں پر بات کر رہے ہیں، ایک پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے کسی فیصلے پر اصلاح کی نیت سے تنقید کرے کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔“ اگر ان کو ایسی گفتگو نہیں چاہیے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے ملک میں ایسی بحث چھڑ جائے اور اپنے ہی اداروں اور جوانوں کی قربانیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے۔ان کی تنقید ریاستی اداروں پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں اپنے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کی درخواست پر انہوں نے ثالثی کی کوشش کی تھی۔پی ٹی آئی کے وفد کے بعد حکومت کے نمائندے بھی ان کے پاس آئے اور ان سے معاملات میں مداخلت کی درخواست کی۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔انہوں نے دونوں جانب کے مطالبات سنے اور مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریق اس بات پر متفق تھے کہ ان کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے تاہم اختلاف اس بات پر تھا کہ معاہدے سے پیچھے کون ہٹا۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے کرانے کے لیے اب ان کے ثالثی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا اور فیصلے صرف کسی ایک فریق کی خواہش کے مطابق نہیں کیے جا سکتے۔